نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آر گوائی نے چہارشنبہ کے روز جسٹس یشونت ورما کی رٹ پٹیشن کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا۔ جسٹس یشونت ورما نے دہلی ہائی کورٹ میں جج کے عہدے پر تعیناتی کے دوران قومی دارالحکومت میں اپنی سرکاری رہائش گاہ سے نقدی کی مبینہ برآمدگی کے معاملے میں اندرونی جانچ کے عمل ، اپنے تبادلے اور جج کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی ہے ۔ چیف جسٹس نے یہ کہہ کر اس کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا کہ چونکہ وہ ان کے تبادلے (دہلی ہائی کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ) کے فیصلے میں شامل تھے ، اس لیے ان کے لیے اس کیس کی سماعت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ جسٹس یشونت ورما کی جانب سے دائر درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس کیس کی سماعت کے لیے نئی بنچ تشکیل دیں گے ۔ جسٹس یشونت ورما کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے چیف جسٹس گوائی کی سربراہی والی بنچ کے سامنے فوری سماعت کے لیے اس معاملے کا ذکر کیے جانے کے بعد عدالت اس معاملے کی سماعت کے لیے راضی ہو گئی۔ سینئر وکیل مکل روہتگی، راکیش دویدی، سدھارتھ لوتھرا اور سدھارتھ اگروال بھی جسٹس یشونت ورما کی طرف سے پیش ہوئے ۔ وکیلوں نے کہا کہ کیس میں کچھ آئینی مسائل شامل ہیں۔ جسٹس یشونت ورما کو نقدی برآمد ہونے کے کیس میں اندرونی تحقیقاتی رپورٹ میں ملزم قرار دیا گیا ہے ۔ عدالت عظمیٰ کی اس اندرونی رپورٹ میں ان کے خلاف کارروائی اور ان کی برطرفی کی سفارش بھی شامل ہے ۔
جسٹس یشونت ورما کو اپنی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر نقدی برآمد ہونے کے بعد اس سال مارچ میں دہلی ہائی کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے رٹ پٹیشن میں اندرونی کارروائی کی صداقت پر سوال اٹھایا، جس میں انہوں نے منصفانہ سماعت اور مقررہ طریقوں کی پیروی سے انکار کیے جانے کا دعویٰ کیا۔
انہوں نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ ججوں کی کمیٹی کی جانب سے انکوائری شروع کرنے سے پہلے کوئی باضابطہ شکایت نہیں ملی تھی۔ جسٹس یشونت ورما نے دلیل دی کہ 22 مارچ 2025 کو ویب سائٹ پر پریس ریلیز کو اپ لوڈ کرنے سے ان کے خلاف الزامات کے انکشاف کے سلسلے میں میڈیا میں شدید قیاس آرائیاں ہوئیں، جس سے ان کا وقار بری طرح متاثر ہوا اور ان کے وقار کے حق کی خلاف ورزی ہوئی۔
جسٹس یشونت ورما نے یہ دلیل بھی دی کہ اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کے ذریعہ تشکیل دی گئی ججوں کی کمیٹی نے انہیں الزامات کی تردید کرنے یا گواہوں سے جرح کرنے کا موقع نہیں دیا۔