مرکزی حکومت نے 9 ججس کی ترقی کو منظوری دے دی
حیدرآباد۔26 ۔اگست (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججس کے طور پر تقرر کے لئے سپریم کورٹ کالجیم کی جانب سے سفارش کردہ 9 ناموں کو منظوری دے دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی زیر قیادت کالجیم نے حکومت سے سفارش کی تھی۔ سفارش کردہ ناموں میں جسٹس بی وی ناگا رتنا جو کرناٹک ہائی کورٹ کی جج ہیں، وہ آئندہ چند برسوں میں ملک کی پہلی چیف جسٹس آف انڈیا بن جائیں گی ۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت نے ناموں کو منظوری دیتے ہوئے فائل صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کے پاس روانہ کردی ہے تاکہ تقررات سے متعلق احکام جاری کئے جائیں۔ اگر صدر جمہوریہ جلد منظوری دیتے ہیں تو امید کی جارہی ہے کہ آئندہ ہفتہ سپریم کورٹ کے 9 نئے ججس حلف لیں گے ۔ نئے امکانی ججس میں 8 ججس اور ایک سپریم کورٹ بار کونسل کے وکیل ہیں۔ چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ اے ایس اوکا کا تعلق ملک کی تمام ہائی کورٹس کے سینئر ترین چیف جسٹس میں ہے۔ گجرات چیف جسٹس وکرم ناتھ ، سکم کے چیف جسٹس جے کے مہیشور ی ، تلنگانہ چیف جسٹس ہیما کوہلی، جسٹس ناگا رتنا (کیرالا ہائی کورٹ) ، جسٹس سی ٹی روی کمار (مدراس ہائی کورٹ) ، جسٹس ایم ایم سندریش (گجرات ہائی کورٹ) جسٹس بی ایم تریویدی اور سینئر ایڈوکیٹ پی ایس نرسمہا کے ناموں کی سفارش کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کالجیم میں جسٹس یو للت ، جسٹس اے ایم کھنڈوال کر ، جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب کالجیم نے ایک واحد قرارداد کے ذریعہ تین خاتون ججس کے ناموں کی سفارش کی ہے ۔ سپریم کورٹ میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کا واضح طورپر اشارہ دیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر صدر جمہوریہ سپریم کورٹ کے ججس کے ناموں کی منظوری دیتے ہیں تو جسٹس ہیما کوہلی جاریہ ماہ کے اختتام پر تلنگانہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ روانہ ہوجائیں گی۔ R