چیف منسٹرآسام کیخلاف عدلیہ ازخود کارروائی کرے

   

بدعنوانی پر راہول گاندھی کے جائز سوالات پرکارروائی تو اب کیوں نہیں:محبوبہ مفتی

سرینگر: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ چیف منسٹرآسام نے مہنگائی کے لئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹہرایا ہے جو بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کے بیروزگاری اور مہنگائی پر کنٹرول میں شدید ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔جموں کشمیر کی سابق چیف منسٹر نے مزید کہا کہ جبکہ عدلیہ راہول گاندھی کے خلاف بدعنوانی پر جائز سوالات پوچھنے کے لئے فوری کارروائی کرتی ہے، انہیں آسام چیف منسٹر کے آگ بھڑکانے والے بیانات کا ازخود نوٹس لینے میں کیا چیز روکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے چیف منسٹر کا مسلمانوں کو مہنگائی کے لئے ذمہ دار ٹہرانا بے‘ روزگاری، مہنگائی اور ترقی کی کمی پر بی جے پی کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہیمنت بسوا کھلے عام ہندوؤں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان کے ذریعہ معاش کی معمولی شکلوں، سبزی فروش اور کرانہ کی دوکانوں کو بھی زبردستی چھین لیں۔گوہاٹی میں ترکاری کی بڑھتی قیمتوں پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سرما نے حال ہی میں کہا کہ ترکاری کی قیمتیں دیہاتوں میں بڑھی ہوئی نہیں ہیں۔ یہاں پر میاں ترکاری فروش زیادہ قیمت لے رہے ہیں۔ اگر یہاں پر آسامی لوگ ترکاری فروش کرتے ہوتے تو وہ اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے۔انہوں نے کہا تھا کہ میں گوہاٹی میں تمام فوٹ پاتھوں کو صاف کروں گا اور میں آسامی لوگوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے ائیں اور اپنے کاروبار خود شروع کریں۔ میاں ایک اصطلاح ہے جو بنگالی مسلمانوں کے لئے آسام میں استعمال کی جاتی ہے۔حالیہ دنوں میں اس کمیونٹی کے جہدکاروں نے اس اصطلاح کو انحراف کے اشارے میں اپنانا شروع کر دیا ہے۔آسام میں اپوزیشن پارٹیوں نے سرما کو ان کے اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنا نا شروع کردیا ہے اوربی جے پی لیڈر پرفرقہ وارانہ سیاست کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔