چیف منسٹرآسام کے ویڈیو کیس کی 16 فروری کو سماعت

   

گوہاٹی ۔14؍فروری ( ایجنسیز )سپریم کورٹ میں 16فروری کو آسام کے چیف منسٹر ہمانتابسوا سرما کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہو گی۔ یہ درخواستیں ایک متنازعہ ویڈیو کے حوالے سے دائر کی گئی ہیں جسے آسام بی جے پی کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل سے شیئر کیا گیا تھا اور جس میں چیف منسٹر کو ایک مخصوص کمیونٹی(مسلم ) کے افراد پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔درخواستوں کے مطابق 7 فروری کو بی جے پی آسام کے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل سے ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی۔ ویڈیو میں ہمانتا بسوا سرما کو ایک ایئر رائفل سنبھالتے ہوئے دکھایا گیا جس پر اے آئی سے تیار کردہ مناظر شامل کیے گئے تھے جن میں گولیوں کو داڑھی اور ٹوپی پہنے افراد کی تصاویر سے ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا۔کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ جس میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس این وی انجاریہ شامل ہوں گے اس معاملے کی سماعت کرے گا۔گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی انتخابات آتے ہیں انتخابی جنگ کا ایک حصہ سپریم کورٹ میں بھی لڑا جاتا ہے۔ ہم معاملہ دیکھیں گے اور تاریخ مقرر کریں گے۔درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل نظام پاشا نے عدالت کو بتایا کہ چیف منسٹر کے خلاف شکایات درج کرائی گئی ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔سی پی آئی ایم کے رہنماؤں نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی ہیں، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور سماجی پولرائزیشن پیدا کرنے کی کوشش ہے۔چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما نے اس معاملے سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی ویڈیو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کسی شکایت کے بارے میں بھی علم نہیں ہے۔کانگریس پارٹی نے ویڈیو کو ’’انتہائی قابلِ مذمت اور تشویشناک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ صرف ویڈیو ڈیلیٹ کرنا کافی نہیں ہے۔ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے بھی اسے اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔سپریم کورٹ اب 16 فروری کو اس بات پر غور کرے گی کہ آیا یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں اور درخواست گزاروں کی جانب سے مانگی گئی ریلیف پر کیا حکم جاری کیا جائے۔