چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ اسکیم سال 2018 کے طلبہ ہنوز دوسری قسط سے محروم

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ اسکیم
سال 2018 کے طلبہ ہنوز دوسری قسط سے محروم
حکومت اقلیتی بجٹ مکمل استعمال کرنے سے قاصر، محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار خواب غفلت میں
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ اسکیم شروع کرتے ہوئے سارے ملک میں ایک تاریخ رقم کی تھی اور اس اسکیم پر کامیابی کے ساتھ عمل آوری جاری تھی ۔ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں کی مسلسل نمائندگیوں اور روز نامہ ’سیاست‘ میں رپورٹس کی اشاعت پر حکومت نے 2015 میں اس اسکیم کا آغاز کیا جس سے بے شمار اقلیتی طلبہ کو فائدہ ہوا تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ عہدیدار چیف منسٹر کے سی آر اور ان کی حکومت کی نیک نامی کو متاثر کرنا چاہتے ہیں تب ہی تو اگسٹ 2018 تا ڈسمبر 2018 جن 250 بچوں کو منتخب کیا گیا تھا ان میں پہلی قسط دس لاکھ روپئے تقسیم کردی گئی جبکہ دو سال مکمل ہونے کو ہیں دوسری قسط 10 لاکھ روپئے ادا نہیں کی گئی جبکہ سرکاری حکمنامہ میں یہ واضح ہے کہ پہلا سیمسٹر مکمل ہوتے ہی دوسری قسط ادا کردی جائے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 2018 ، 2019 اور 2020 کا بجٹ مکمل طور پر خرچ بھی نہیں ہوا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ حکومت کی نااہلی ہے یا پھر سرکاری عہدیدار جان بوجھ کر اقلیتی طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے کردار کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔دو سال سے نصف بجٹ بھی خرچ نہیں ہورہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت تو دینے کیلئے تیار ہے لیکن عہدیدار رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جنوری 2019 میں بھی کئی طلبہ نے درخواستیں دی تھیں لیکن اس میں سے 250 طلبہ کا انتخاب عمل میں آیا اُن بچوں کو بھی پہلی قسط جاری نہیں کی گئی جبکہ جی او میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایمگریشن کے فوری بعد پہلی قسط ادا کردی جائے۔ بہرحال اولیائے طلبہ کافی پریشان ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سرکاری عہدیدار جان بوجھ کر اقلیتوں کیلئے شروع کردہ اسکیمات کو بند کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔