وزیر اعظم سے ملاقات نہ ہوسکی، دھان کے مسئلہ پر مرکز سے کوئی تیقن نہیں
حیدرآباد۔/24 نومبر، ( سیاست نیوز) دھان کی خریدی، کسانوں کے مسائل اور آبی تنازعہ کے معاملہ میں مرکز سے دو ٹوک بات چیت کیلئے نئی دہلی کا دورہ کرنے والے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کسی نتیجہ کے بغیر تین دن بعد حیدرآباد واپس ہوگئے۔ کے سی آر نے دھان کی خریدی کا مطالبہ کرتے ہوئے حیدرآباد میں مہا دھرنا منعقد کیا تھا اور ریاست کے مسائل پر مرکز اور بی جے پی سے آر پار کی لڑائی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ضرورت پڑنے پر نئی دہلی میں جنتر منتر پر دھرنا منظم کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے سی آر اتوار کی شام بعض ریاستی وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ نئی دہلی روانہ ہوئے۔ امید کی جارہی تھی کہ وہ کسانوں کے مسائل اور ریاست کے آبی تنازعہ کے سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے نریندر مودی سے ملاقات کا وقت مانگا گیا لیکن وزیر اعظم کے دفتر نے مودی کی مصروفیات کا بہانہ بنادیا۔ چیف منسٹر تین دن تک نئی دہلی میں قیام پذیر رہے لیکن انہوں نے کسی ایک مرکزی وزیر سے بھی ملاقات نہیں کی جبکہ سابق میں وہ وزیر آبی وسائل گجیندر سنگھ شیخاوت اور وزیر اغذیہ پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ چیف منسٹر نے کے ٹی آر کی قیادت میں ریاستی وفد کو مرکزی وزیر پیوش گوئل سے ملاقات کیلئے روانہ کیا جہاں انہوں نے واضح کردیا کہ تلنگانہ سے بائیلڈ رائس خریدا نہیں جائے گا۔ اس ملاقات کے بعد چیف منسٹر نے حیدرآباد واپسی کا فیصلہ کیا اور آج سہ پہر وہ واپس ہوگئے۔ چیف منسٹر نے کسان ایجی ٹیشن میں فوت ہونے والے کسانوں کو فی کس 3 لاکھ روپئے امداد کا اعلان کیا ہے لیکن امداد کی تقسیم کے سلسلہ میں انہوں نے کسانوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کی۔ چیف منسٹر کے اس دورہ پر پارٹی حلقوں میں مایوسی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ ر
حضور آباد ضمنی چناؤ کے نتیجہ کے بعد کے سی آر کا یہ پہلا دورہ دہلی تھا جس میں مرکز کی جانب سے سردمہری کے رویہ نے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔
پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ دہلی کے دورہ کے سلسلہ میں چیف منسٹر کو عجلت کے بجائے پہلے سے وزیر اعظم کا وقت حاصل کرنے کے بعد نئی دہلی روانہ ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن کے سی آر جو مرکز اور بی جے پی پر سخت ناراض تھے جذباتی انداز میں نئی دہلی روانہ ہوگئے تھے۔ر