چیف منسٹرکے عہدہ سے2دن میں استعفیٰ دینے کجریوال کا اعلان

,

   

lلیجسلیچرپارٹی اجلاس میں نئے چیف منسٹرکا انتخاب‘ مہاراشٹرا کے ساتھ نومبر میں الیکشن کرانے کا مطالبہ
lعوام کی عدالت سے انصاف حاصل کرنے کا عزم‘ بی جے پی اور کانگریس کا کجریوال کے بیان پر ردعمل

نئی دہلی: چیف منسٹردہلی اروند کجریوال کل ہی تہاڑ جیل سے باہر آئے ہیں۔ اس درمیان اتوار کو انہوں نے اگلے دو دن میں چیف منسٹرٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ اروند کجریوال نے کہا کہ اگلے دو دن میں قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہوگی اور اس میں نئے چیف منسٹرکا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اگلا چیف منسٹر بھی عام آدمی پارٹی سے ہی ہوگا۔اروند کجریوال نے عام آدمی پارٹی کے کارکنوں اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عوام کی عدالت میں جیت نہیں جاتا ہوں، تب تک میں چیف منسٹر کی کرسی پر نہیں بیٹھوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ دہلی کا انتخاب نومبر میں ہو۔ عوام ووٹ دے کر جتائیں اس کے بعد ہی میںچیف منسٹرکی کْرسی پر بیٹھوں گا۔دہلی کے چیف منسٹر نے کہا کہ عوام کی دعا سے بی جے پی کی ساری سازش کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان کے آگے ہم نہیں جھکیں گے، نہ رکیں ہیں اور نہ بکیں گے۔ آج دہلی کے لیے کتنا کچھ کر پائے کیونکہ ہم ایماندار ہیں۔ آج یہ بی جے پی ہماری ایمانداری سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ ایماندار نہیں ہیں۔اروند کجریوال نے آگے مزید کہا کہ میں پیسے سے اقتدار اور اقتدار سے پیسہ اس کھیل کا حصہ بننے نہیں آیا تھا۔ دو دن بعد میں چیف منسٹرکے عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا۔ قانون کی عدالت سے مجھے انصاف ملا، اب عوام کی عدالت مجھے انصاف دے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں وارننگ دی گئی تھی کہ اگر دوسری بار خط لکھا تو جیل میں فیملی سے ملاقات بند کر دی جائے گی۔ کجریوال نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بڑے بڑے دشمن ہیں لیکن ستندر جین اور امانت اللہ خان بھی جلد ہی باہر آجائیں گے۔چیف منسٹر اروند کجریوال کے استعفیٰ پر کابینی وزیر کیلاش گہلوت نے کہا کہ اب چیف منسٹر عوام کی عدالت میں جائیں گے اور ان سے ہی انصاف مانگیں گے، عدالت نے انصاف دے دیا ہے، اب جنتا کی باری ہے۔ راگھو چڈھا نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں دہلی کے عوام پھر سے اروند کجریوال کو منتخب کرکے چیف منسٹر بنائیں گے۔اروند کجریوال کے دو دنوں بعد استعفیٰ دینے کے اعلان پر کانگریس رہنما سندیپ دکشت نے کہا کہ صرف ضمانت مل جانے سے انصاف کی جیت کا اعلان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ عوام طے نہیں کر سکتے کہ کوئی مجرم ہے یا نہیں۔ یہ عدالت کا کام ہے۔ دوسری طرف بی جے پی رہنما نے بھی کجریوال معاملے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چیف منسٹرکجریوال اپنے استعفیٰ کے بعد اپنی اہلیہ سنیتا کجریوال کو اگلاچیف منسٹر بنانا چاہتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وہ خود چیف منسٹرکے عہدے پر نہیں بیٹھ سکتے نہ ہی کسی فائل پر دستخط کر سکتے ہیں۔