چیف منسٹر آر ٹی سی ملازمین سے نرم رویہ اختیا ر کریں: وشویشور ریڈی

   

انضمام کے ماسواء دیگر مطالبات قبول کرنے کی اپیل،کے سی آر آر ٹی سی ملازمین کو دشمن نہ سمجھیں

حیدرآباد۔/16 نومبر، ( سیاست نیوز) سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ پیار و محبت کا رویہ اختیار کریں کیونکہ انہوں نے آر ٹی سی انضمام کے اصل مطالبہ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ چیف منسٹر کو چاہیئے کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کو مذاکرات کیلئے مدعو کرتے ہوئے دیگر مسائل کی یکسوئی کریں۔ سابق ریاستی وزیر جی پرساد کمار کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وشویشور ریڈی نے کہا کہ انضمام کے مطالبہ سے دستبرداری کے سی آر کی اہم کامیابی ہے کیونکہ وہ اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کوئی ہار یا جیت کا مسئلہ نہیں۔ چیف منسٹر کو سخت گیر فیصلوں کے بجائے سوچنا چاہیئے کہ ہڑتال کے نتیجہ میں کئی ملازمین کی موت واقع ہوگئی اور ہزاروں خاندان سڑک پر آگئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام خاندان تلنگانہ کے ہیں اور علحدہ تلنگانہ کے حصول کے وقت سنہرے اور خوشحال تلنگانہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 48000 خاندانوں کے مستقبل کا سوال ہے اور چیف منسٹر فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری، ڈینگو ، صحت و صفائی اور پینے کے پانی کی سربراہی جیسے مسائل پر چیف منسٹر کو سخت قدم اٹھانے ہوں گے جبکہ غریب آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ سخت گیر رویہ مناسب نہیں ہے۔ وشویشور ریڈی نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ آر ٹی سی کے بارے میں اپنے منصوبہ کا انکشاف کریں کہ وہ کس طرح آر ٹی سی کے روٹس کو خانگیانے کا پلان رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کُل جماعتی اجلاس، جے اے سی قائدین یا پھر عدالت کے روبرو کے سی آر آر ٹی سی پر اپنا منصوبہ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ نقصان میں چلنے والی روٹس کے بارے میں حکومت کا کیا منصوبہ ہے۔ کیا خانگی ادارے اس روٹ پر بس چلائیں گے یا پھر میٹرو ریل چلے گی، اس کی وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ منافع بخش اور نقصان میں چلنے والی روٹس سے متعلق منصوبہ کو عوام کے روبرو پیش کیا جائے۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر عہدیداروں کی تجاویز کو قبول کرنے تیار نہیں۔ ہائی کورٹ نے ریٹائرڈ ججس پر مشتمل کمیٹی کی تجویز پیش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا۔ سیول سوسائٹی اور سیاسی قائدین کی تجاویز بھی حکومت کے پاس کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین نے کبھی بھی کے سی آر کی مخالفت نہیں کی اور وہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر کے حامی تھے۔ آر ٹی سی ملازمین آج بھی کے سی آر کے خلاف نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سرویس رولس پر عمل کیا جائے۔ موٹر وہیکل ٹیکس پر عمل ہو، خاتون کنڈکٹرس کو رات 9 بجے کے بعد ڈیوٹی نہ دی جائے۔ جی ایچ ایم سی قانون کے مطابق آر ٹی سی کو بقایا جات ادا کئے جائیں۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ مذکورہ مطالبات اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات، پراویڈنٹ فنڈ اور دیگر مطالبات میں کوئی برائی نہیں ہے۔ 10 تا 15 سال سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ جائز ہے۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ اگر چیف منسٹر مذکورہ مطالبات کو قبول کرتے ہیں تو انضمام کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مداخلت سے قبل چیف منسٹر کو مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہیئے تاکہ مرکز کی مداخلت کی صورت میں شرمندگی سے بچ سکیں۔