سپریم کورٹ از خود نوٹس لے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکا مطالبہ
گوہاٹی 30 جنوری (ایجنسیز) آسام کے وزیر اعلی ہیمنتا بسوا شرما کی مسلمانوں کے خلاف حالیہ زہر افشانی انتہائی قابل مذمت اور تشویشناک ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس کا SUOMOTTO نوٹس لے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی، نفرت انگیز بیانات اور زہریلی تقاریر اب بی جے پی کا وطیرہ بن گیا ہے۔ دوسرے اور تیسرے درجہ کے قائدین تو آئے دن ایسا کرتے ہی رہتے ہیں مگر اب اس کی اعلی سطح کی قیادت بھی اس میں ملوث ہوتی جارہی ہے۔ اتراکھنڈ، یوپی اور آسام کے وزرائے اعلیٰ اس طرح کی بیان بازیاں کرتے رہتے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے تن سکھیا کے ایک سرکاری پروگرام کے موقع پر عوام سے کہا کہ وہ میاں لوگوں کو ستائیں تاکہ وہ پریشان ہوکر آسام چھوڑدیں۔ اس موقعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا میاں طبقے کو تکلیف پہونچانا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے آسامی لوگوں سے کہا کہ وہ فارم نمبر 7 داخل کرکے 4 تا 5 لاکھ مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے باہر نکال دیں۔ انہوں نے عوام سے مزید کہا کہ وہ مسلمانوں کو معاشی طور پر بھی پریشان کریں۔ ڈاکٹر الیاس نے اس پر انتہائی تعجب سے کہا کہ ایک وہ شخص جو ملک کے دستور پر حلف لے کر وزیر اعلیٰ بنتا ہے کس طرح ایسے غیر قانونی بیانات دے سکتا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ایسی ناجائز حرکتوں کے آگے خاموش ہوجائے تو پھر کس طرح ملک میں صاف ستھرے انتخابات ہوسکتے ہیں۔ ہم سب سے پہلے تو صدرجمہوریہ ہند سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ کے ان متنازعہ اور غیر دستوری بیانات پر سخت کاروائی کریں۔ اسی طرح ہم چیف جسٹس آف انڈیا سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس پر ازخود نوٹس جاری کریں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ اس سے ملک میں بدامنی و انارکی پیدا ہوجائے گی۔ بورڈ کے قومی ترجمان نے ملک کی سیکولر پارٹیوں اور انصاف پسند شہریوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس زہر افشانی اور غیر قانونی حرکت کا سختی سے نوٹس لیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آسام کے مسلمانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی مذموم حرکتوں سے ہرگز بھی پریشان نہ ہوں اور آئینی و قانونی راستوں سے اس کا مقابلہ کریں۔