چیف منسٹر امن کو بگاڑنے کی سازش پر پچھلے دو سال سے خدشات ظاہر کررہے ہیں

   

انٹلی جنس رپورٹس کیا ہیں ، کونسی طاقتیں ذمہ دار ہیں اس کی حکومت نے آج تک وضاحت نہیں کی
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں چند طاقتوں کی جانب سے امن کو بگاڑنے کی سازش کرنے کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں ۔ مگر وہ کونسی طاقتیں ہیں اس پر آج تک وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کے دوران بھی انتخابی مہم کی کمان سنبھالنے والے ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ ریاستی وزیر کے ٹی آر نے بھی کچھ اس طرح کے خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ مگر ان دو سال کے دوران امن و امان کو نقصان پہونچانے کی کوشش کرنے والوں کی نہ ہی نشاندہی کی گئی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ۔ ایک ہفتہ قبل وقار آباد جدید کلکٹریٹ کا افتتاح کرتے ہوئے بھی چیف منسٹر نے دوبارہ ان ہی خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ریاست کی انٹلی جنس اور دوسری تحقیقاتی ایجنسیوں نے شہر کے لا اینڈ آرڈر کو نقصانات پہونچانے کی حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی جس کی بنیاد پر چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزیر کے ٹی آر کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ مگر وہ کونسی مجبوری ہے ۔ امن کو نقص پہونچانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے حکومت کو روک رہی ہے ۔ اس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا ۔ سازشی چہروں کو بے نقاب کرنے کے معاملے میں حکومت کیوں پس و پیش کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ یہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔ لا اینڈ آرڈر کو نقصان پہونچانے کے لیے چند واقعات اچانک رونما ہوجاتے ہیں ۔ اس کوئی بھی کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔ مگر جب حکومت کو اس کا پتہ ہے تو کارروائی نہ کرنا عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ۔ حکومت کی جانب سے قیام تلنگانہ کے بعد سے بار بار یہ دعویٰ کیا جارہا ہے لا اینڈ آرڈر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہونے والی طاقتوں کو آہنی پنجہ سے کچل دیا جائے گا ۔ تلنگانہ کی پولیس سارے ملک میں نمبرون ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر امن کو بگاڑنے والی طاقتوں کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔ یہ بہت بڑا معمہ ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امن و امان کو نقصان پہونچنے کے بعد کارروائی کی جائے گی ۔ خدشات کا اظہار کرنے والے چیف منسٹر اور وزیر بلدی نظم و نسق ہی اس کی وضاحت کریں ۔ عوام میں جو خدشات پیدا کئے گئے ہیں اس کو دور کرنا ان ہی کی ذمہ داری ہے ۔۔ن