انضمام کے مطالبہ سے دستبرداری پر مذاکرات کی اپیل، عدالت کو نظرانداز کرنے کا الزام
حیدرآباد۔ 15 نومبر (سیاست نیوز) نائب صدر پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر ملو روی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کو مذاکرات کے لیے فوری مدعو کریں کیوں کہ انہوں نے آر ٹی سی کے انضمام کے مطالبہ سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ملو روی نے کہا کہ حکومت کو ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کرنا چاہئے کیوں کہ ملازمین نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ایک اہم مطالبہ کو عارضی طور پر پس پشت ڈال دیا۔ ملازمین نے جب ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ مذاکرات کے لیے پیشرفت کرے تاکہ 41 دنوں سے جاری ہڑتال کا حل تلاش کیا جاسکے۔ ملو روی نے کہا کہ چیف منسٹر کے ہٹ دھرمی کے رویہ نے آر ٹی سی ملازمین کو ہڑتال پر مجبور کیا اور 41 دن گزرنے کے باوجود حکومت مذاکرات کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مذاکرات کے ذریعہ مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے لیکن ٹی آر ایس حکومت ہائی کورٹ کی ہدایات کو نظرانداز کررہی ہے۔ ہائی کورٹ نے مذاکرات اور تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں ہدایت دی تھی لیکن چیف منسٹر ملازمین کی برطرفی کے موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش میں حکومت نے آر ٹی سی کے انضمام کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تلنگانہ حکومت کو اس سلسلہ میں کمیٹی کے قیام پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ ملو روی نے کہا کہ آر ٹی سی کی ہڑتال نئی نہیں ہے۔ آر ٹی سی ملازمین نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا اور اس وقت کے سی آر نے ان سے کئی وعدے کئے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ٹی آر ایس حکومت قانون اور دستور سے بالاتر ہے جو عدالت کے احکامات کو نظرانداز کررہی ہے۔ حکومت کا ہر قدم قانون اور دستور کے مطابق نہیں۔ ہائی کورٹ کی مداخلت پر آر ٹی سی جے اے سی نے انضمام کے مطالبہ کو عارضی طور پر ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ یونین کو بات چیت کے لیے مدعو کرے۔ روزانہ ایک کروڑ سے زائد عوام کو ہڑتال کے سبب دشواریوں کا سامنا ہے۔ ملو روی نے کہا کہ 18 نومبر سے قبل مذاکرات کی صورت میں ہائی کورٹ کی نگرانی میں ہڑتال کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے کیوں کہ عدالت نے مذاکرات کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس قائد نے کہا کہ اگر کے سی آر حکومت ہٹ دھرمی کا رویہ ترک نہ کرے تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔