چیف منسٹر بننے تک اسمبلی میں قدم نہ رکھنے چندرا بابو نائیڈو کا سنسنی خیز اعلان

,

   

اہلیہ کی ہتک پر سابق چیف منسٹر جذبات سے مغلوب ۔ شدت سے روپڑے ۔ ڈھائی سال سے مسلسل ہتک کئے جانے کا الزام
حیدرآباد /19 نومبر ( سیاست نیوز ) قائد اپوزیشن و سربراہ تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو آندھراپردیش اسمبلی میں شریک حیات اور خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے پر جذباتی ہوگئے ۔ انہوں نے اسمبلی میں روتے ہوئے عہد کیا کہ وہ دوبارہ چیف منسٹر بننے تک اسمبلی میں قدم نہ رکھنے کا حیرت انگیز فیصلہ کرتے ہوئے اسمبلی سے واک آوٹ کردیا ۔ ان کے ساتھ تلگودیشم کے دوسرے ارکان اسمبلی بھی واک آوٹ کیا ۔ ریاستی وزراء کے نانی اور کنابابو نے چندرا بابو پر شخصی تنقید کی غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا ۔ چندرا بابو نائیڈو کی شریک حیات اور ان کے ارکان خاندان کی دوسری خواتین کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر چندرا بابو نائیڈو جذباتی ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں متحدہ آندھراپردیش اور قومی سطح پر عظیم قائدین کے ساتھ کام کا موقع ملا ہے ۔ لیکن گذشتہ ڈھائی سال سے آندھراپردیش اسمبلی میں توہین کی جارہی ہے ۔ شخصی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ پھر بھی وہ عوام کی خاطر اس کو برداشت کرتے رہے ۔ وہ بھی اقتدار میں رہے ہیں مگر کبھی اس طرح اپوزیشن کی توہین نہیں کی اور نہ کسی کو شخصی نشانہ بنایا ہے نہ گھر کی خواتین کی توہین کی ہے ۔ کپم میں تلگودیشم کی شکست پر چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے کہا تھا کہ وہ چندرا بابو نائیڈو کا چہرہ دیکھنے کو بے چین ہیں اس پر بھی وہ خاموش رہے لیکن ان کی شریک حیات اور خاندان کی دوسری خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ میں بات کر رہا تھا اسپیکر اسمبلی بار بار میرا مائیک کٹ کر رہے تھے ۔ بعد ازاں منگل گیری کی تلگودیشم آفس میں بھی چندرا بابو نائیڈو پریس کانفرنس کے دوران رو پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شریک حیات نے کبھی سیاست میں مداخلت نہیں کی مگر ان کی توہین کی گئی ۔ بی اے سی کے اجلاس میں چیف منسٹر جگن نے ان کی توہین کی ۔ وہ ا پنی سیاسی زندگی میں ایسا دن کبھی نہیں دیکھے ۔ ماضی میں والدہ کی توہین کرچکے تھے ۔ بعد میں انہوں نے غلطی کا اعتراف کرکے مجھ سے معذرت خواہی کی تھی ۔ آج اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس کو بتانے ان کے پاس الفاظ نہیں ہے ۔ اسپیکر اپنے رویہ کا محاسبہ کرلیں۔ ماضی میں تلگودیشم نے انہیں وزیر بنایا تھا ۔ وہ اپنے 40 سالہ سیاسی زندگی میں ایسے دور سے کبھی نہیں گذرے ۔ ن