چیف منسٹر تلنگانہ کو بدعنوان اور مخالف ہندو ثابت کرنے بی جے پی کا منصوبہ

   

برسر اقتدار پارٹی کا بی جے پی سے مقابلہ آرائی کے بعد رام سینا اور دیگر ہندو تنظیمیں متحریک
حیدرآباد۔14۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے استحکام کے لئے کی جانے والی کوششوں کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو بدعنوان ثابت کرنے کے علاوہ مخالف ہندو قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ ریاستی حکومت مخالف ہندو نہیں بلکہ نرم ہندو توا اختیار کرتے ہوئے ریاست کے ہندو طبقات کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ حکومت تلنگانہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں برسراقتدارتلنگانہ راشٹر سمیتی کے تیز رفتار حملوں کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ریاست میں فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے کی کوشش کرنے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کو مسلم نواز قراردیتے ہوئے نشانہ بنانے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہاہے بلکہ جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق حکومت کو ہندو انتہاء پسند تنظیموں کے ساتھ الجھانے کی کوشش کی جانے لگی ہے۔ حکومت نے ریاست میں امن و امان کی برقراری کے علاوہ مسلسل مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے رکن اسمبلی کے خلاف کاروائی کے ذریعہ اسے جیل میں بند کردیا ہے اور خود بی جے پی نے اسے پارٹی سے معطل کرتے ہوئے 2 ستمبر تک جواب نہ دینے پر اسے پارٹی سے برطرف کرنے کا انتباہ دیا تھا لیکن بی جے پی کی جانب سے اب تک کسی قسم کی کاروائی نہ کئے جانے کے علاوہ راجہ سنگھ کے لئے رام سینااور دیگر ہندوتوا تنظیموں کے متحرک ہونے پر کئی شبہات کا اظہار کیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ ان تنظیموں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے متحرک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ تلنگانہ کے ہندو عوام میں یہ تاثر دیا جاسکے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی مخالف ہندو طرز کارکردگی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ریاستی حکومت نے حالیہ عرصہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کے مطابق کہا جا رہاہے کہ برسراقتدار جماعت ہر محاذ پربی جے پی کے مقابلہ کے لئے تیار ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے قومی سیاسی جماعت کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے جارحانہ موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بی جے پی کی جانب سے اختیار کئے جانے والے جارحانہ موقف کا جواب دینے کے لئے حکومت تلنگانہ نے اپنے پارٹی قائدین کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست کے تمام اضلاع میں تمام طبقات کے ذمہ داروں سے ملاقاتوں کا آغاز کرتے ہوئے ان کے ساتھ بات چیت کریں اور ان کے مسائل کے حل کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے چلائی جانے والی فلاحی اسکیمات اور ان کی تشہیر کے علاوہ جن طبقات تک اسکیمات کے فوائد نہیں پہنچ رہے ہیں ان کی نشاندہی کی ہدایت دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کی جانب سے اختیارکردہ حکمت عملی کے مقابلہ کے لئے تلنگانہ راشٹر سمیتی پارٹی کے سرکردہ قائدین و وزراء مسٹر کے ٹی راما راؤ‘ مسٹر ٹی ہریش راؤ‘ مسٹر پی راجیشور‘ ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور دیگر قائدین کو حکمت عملی کی تیاری کی ذمہ داری حوالہ کی ہے ۔م