سرکاری اراضیات خانگی افراد کے حوالے ، تلنگانہ بھون میں اجلاس سے کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد۔ 27 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر حکمرانی کی بجائے رئیل اسٹیٹ کا دھندہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ تلنگانہ بھون میں سابق رکن اسمبلی جئے پال یادو کی نگرانی میں اسمبلی حلقہ کلواکرتی کے کانگریس اور بی جے پی کے قائدین نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ اس تقریب سے خطاب میں کے ٹی آر نے کانگریس حکومت کی ناکامیوں اور بدعنوانیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پہلے موسیٰ ندی کی اراضیات بعد ریجنل رنگ روڈ پھر سنٹرل یونیورسٹی کی اراضیات پر چیف منسٹر کی نظریں پڑی ہیں۔ اب حیدرآباد میں صنعتوں کی اراضیات لوٹنے کی کوشش کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ریونت ریڈی بحیثیت چیف منسٹر خدمات انجام دینے کی بجائے رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں۔ ماضی میں ملازمتوں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے صنعت کاروں کو اراضیات دی گئی تھی۔ اب موجودہ حکومت صنعتکاروں سے اراضی واپس حاصل کرکے ان پر اپارٹمنٹس، ولاس تعمیر کرنے کم قیمت پر رئیل اسٹیٹ تاجروں کو حوالے کر رہی ہے۔ تقریباً 9300 اراضی خانگی افراد کو دی جارہی ہے۔ صرف 5 اور 6 افراد کو فائدہ پہونچا نے 5 لاکھ کروڑ کے عوامی اثاثہ جات خانگی شعبوں کے حوالے کئے جارہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گرام پنچایت انتخابات کے بعد پارٹی کی رکنیت سازی مہم شروع کرکے دیہی علاقے سے ریاستی سطح تک بی آر ایس کی تنظیم جدید کی جائے گی۔ بی آر ایس کا نشانہ چھوٹے موٹے انتخابات نہیں ہے۔ 2028ء اسمبلی انتخابات ہیں۔ اب جو بھی انتخابات اور نتائج ہونگے اس سے پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ 2028ء کے عام انتخابات میں بی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت تشکیل دے گی۔2