چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 27 دن 57 جلسوں سے خطاب کیا

,

   

تحفظات ختم کرنے کا دعویٰ قومی مسئلہ بن گیا، گدھے کے انڈے کا نعرہ بھی مشہور ہوگیا
حیدرآباد ۔ 11 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے 27 دن ریاست میں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی طوفانی انتخابی مہم چلائی ہے۔ 57 جلسوں، کارنر میٹنگس اور روڈ شوز میں حصہ لیا۔ 6 اپریل کو چیف منسٹر نے تکوگوڑہ میں منعقدہ جناجترا جلسہ عام سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ آج ہفتہ کو کاماریڈی میں منعقدہ روڈ شو میں حصہ لیتے ہوئے انتخابی مہم اختتام کو پہنچی۔ کانگریس کی انتخابی مہم میں کانگریس کے قومی صدر ملکاارجن کھرگے، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے بھی حصہ لیا۔ پارٹی کے سرکردہ قائدین کے پروگرامس کو کامیاب بناتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کامیابی سے چلائی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے انتخابی مہم میں وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بی جے پی دوبارہ برسراقتدار آنے پر ملک میں لا اینڈ آرڈر بگڑجانے، ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور مسلم تحفظات ختم ہوجانے، دستور تبدیل ہوجانے، جمہوریت خطرہ میں پڑجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے عوام سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ تحفظات کے مسئلہ پر آر ایس ایس اور بی جے پی خوفزدہ ہوگئی۔ موہن بھاگوت، نریندر مودی، امیت شاہ پریشان ہوگئے۔ یہ قائدین ایس سی، ایس ٹی اور بی سی تحفظات کے مخالف نہ ہونے صرف مسلم تحفظات کے خلاف ہونے کی بار بار وضاحت کرنے کیلئے مجبور ہوگئے۔ تحفظات سے متعلق چیف منسٹر ریونت ریڈی کا ریمارکس قومی سطح پر کانگریس کیلئے کارآمد ثابت ہوا ہے۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر نے ریاست میں انوکھی مہم چلاتے ہوئے ہر جلسے اور کارنر میٹنگس میں ایک بڑا گدھے کا انڈہ عوام کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ 10 سال تک وزیراعظم رہنے کے باوجود نریندر مودی پر تلنگانہ کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تلنگانہ کو گدھے کا انڈہ قرار دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ نعرہ بھی بہت مشہور ہوگیا۔2