چیف منسٹر ریونت ریڈی کا دورہ فیوچر سٹی، گلوبل سمٹ انتظامات کا جائزہ

   

2000 مندوبین کی شرکت متوقع، وسیع تر سیکوریٹی انتظامات اور بہتر سہولتوں کی ہدایت
حیدرآباد۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فیوچر سٹی کا دورہ کرتے ہوئے 8 اور 9 ڈسمبر کو منعقد ہونے والے گلوبل سمٹ کے انتظامات کا شخصی طور پر جائزہ لیا۔ آندھرا پردیش کے پٹاپرتی سے واپسی کے دوران چیف منسٹر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ فیوچر سٹی میں لینڈنگ کی اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ 2025 کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ سمٹ کے لئے نقائص سے پاک وسیع تر انتظامات کئے جائیں۔ ریونت ریڈی نے سمٹ کے دوران سیکوریٹی انتظامات کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں کیونکہ اس عالمی ایونٹ میں دنیا بھر سے اہم ترین شخصیتیں شرکت کررہی ہیں۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ دو روزہ سمٹ کے دوران کسی بھی وفد کے ایک رکن کو بھی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مختلف ممالک کے سفیر اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہان و نمائندے شرکت کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ فیوچر سٹی میں پاسیس کے بغیر کسی کے لئے بھی داخلے کی اجازت نہیں رہے گی۔ چیف منسٹر نے ہدایت دی کہ سمٹ سے غیر متعلق افراد کو کسی بھی صورت میں فیوچر سٹی میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ انتظامات کے سلسلہ میں موجود رہنے والے سرکاری محکمہ جات کے عہدیداروں کی فہرست پہلے سے ہی تیار کرلی جائے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ وہ وقفہ وقفہ انتظامات کے بارے میں جائزہ اجلاس منعقد کریں گے۔ انہوں نے سیکوریٹی انتظامات کے سلسلہ میں پولیس کو ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ سمٹ کے دوران سیکوریٹی پر مامور پولیس عہدیداروں کو کسی بھی دشواری سے بچانے کے لئے مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں۔ چیف منسٹر نے پارکنگ کی سہولتوں کے علاوہ میڈیا کے لئے علیحدہ انتظامات پر بھی عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کیں۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس شیودھر ریڈی اور رکن اسمبلی مال ریڈی رنگاریڈی اس موقع پر موجود تھے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ کو عالمی سرمایہ کاری کے مرکز میں تبدیل کرنے کے مقصد سے گلوبل سمٹ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تمام وزراء اور سرکاری محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کو سمٹ کی تیاریوں کے سلسلہ میں اہم ذمہ داریاں دی گئیں۔ تلنگانہ میں صنعت کاروں کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولتوں اور مراعات سے مندوبین کو واقف کرایا جائے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ امریکہ، برطانیہ، جاپان، چین، کوریا کے علاوہ خلیجی ممالک سے بھی مندوبین سمٹ میں شرکت کریں گے۔ 1