چیف منسٹر ریونت ریڈی کی مرکزی وزراء پیوش گوئل اور جے پی نڈا سے ملاقات

   

ظہیر آباد انڈسٹریل اسمارٹ سٹی کیلئے مرکز سے تعاون کی اپیل، حیدرآباد تا بنگلورو ایرو ڈیفنس راہداری کی تجویز، تلنگانہ کو یوریا کی بروقت سربراہی پر نمائندگی
حیدرآباد۔ 8 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر کامرس اینڈ انڈسٹری پیوش گوئل اور مرکزی وزیر ہیلت اینڈ فیملی ویلفیر کیمیکلس اینڈ فرٹیلائزر جے پی نڈا سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے پراجکٹس میں مرکز سے تعاون کی اپیل کی ۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کو مختص یوریا بروقت سربراہ کرنے کی مرکزی وزیر جے پی نڈا سے اپیل کی۔ ریونت ریڈی نے دورہ دہلی کے دوسرے دن دونوں مرکزی وزراء سے ملاقات کی۔ مرکزی وزیر کامرس اینڈ انڈسٹری پیوش گوئل سے ملاقات میں چیف منسٹر نے ظہیر آباد انڈسٹریل اسمارٹ سٹی کے قیام کیلئے مرکز سے تعاون کی خواہش کی۔ چیف منسٹر نے نیشنل انڈسٹریل کاریڈور ڈیولپمنٹ اینڈ امپلیمنٹیشن ٹرسٹ سے ظہیر آباد انڈسٹریل اسمارٹ سٹی کی ترقی کیلئے منظورہ 596.61 کروڑ کی اجرائی کی خواہش کی۔ چیف منسٹر نے انفرااسٹرکچر کے علاوہ پانی اور برقی کی سربراہی اور اسمارٹ سٹی کیلئے درکار سہولتوں پر مرکز سے مالی امداد کی اپیل کی۔ چیف منسٹر نے پیوش گوئل کو حیدرآباد ۔ ورنگل راہداری کی اہمیت سے واقف کرایا اور ورنگل ایئرپورٹ کی عاجلانہ تکمیل کیلئے فنڈس جاری کرنے کی خواہش کی۔ چیف منسٹر نے مرکزی وزیر کو حیدرآباد تا وجئے واڑہ انڈسٹریل کوریڈور کے منصوبہ سے واقف کرایا۔ ریاستی حکومت نے آدی بٹلہ میں ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس پارک قائم کیا ہے۔ چیف منسٹر نے مرکزی وزیر سے اپیل کی کہ حیدرآباد تا بنگلورو صنعت راہداری کو ایرو ڈیفنس راہداری کے طور پر منظوری دیں۔ ریونت ریڈی نے ریاست میں 100 انڈسٹریل پارکس کے قیام کے منصوبہ سے واقف کرایا اور کئی اداروں نے سرمایہ کاری سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے نئی صنعتی راہداری اور پراجکٹس کیلئے مرکز سے تعاون کی اپیل کی۔ اس موقع پر حکومت کے مشیر جتیندر ریڈی، ارکان پارلیمنٹ ڈاکٹر ملو روی، سی ایچ کرن کمار ریڈی، اسپیشل سکریٹری برائے چیف منسٹر اجیت ریڈی اور مرکزی اسکیمات کے کوآرڈینیٹنگ سکریٹری ڈاکٹر گورو اپل موجود تھے۔ قبل ازیں جے پی نڈا سے ملاقات میں چیف منسٹر نے تلنگانہ کی ضروریات کے مطابق مختص کردہ یوریا بروقت فراہم کرنے درخواست کی۔ انہوں نے جے پی نڈا کو بتایا کہ خریف سیزن کیلئے اپریل تا جون 5 لاکھ مٹرک ٹن یوریا کی ضرورت تھی لیکن صرف 3.07 لاکھ مٹرک ٹن فراہم کیا گیا۔ تلنگانہ میں آبپاشی کیلئے پانی دستیاب ہے اور کاشت کے کام تیزی سے جاری ہیں۔ لہذا یوریا کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ ہونے پائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جولائی کیلئے 63 ہزار مٹرک ٹن گھریلو طور پر تیار کردہ یوریا اور 97 ہزار مٹرک ٹن برآمد شدہ یوریا تلنگانہ کو فراہم کیا جانا تھا لیکن ابھی تک صرف 29 ہزار مٹرک ٹن یوریا سربراہ کیا گیا۔ انہوں نے ریلوے ڈپارٹمنٹ سے درکار ریاکس مختص کرنے کی اپیل کی۔ جے پی نڈا نے کسانوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یوریا کی بروقت سربراہی کا تیقن دیا۔ 1