توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ دونوں تلگو ریاستوں کو ضم کردینا ہی بہتر: جگا ریڈی
حیدرآباد۔ 30 اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کے ورکنگ صدر و رکن اسمبلی جگا ریڈی نے کہا کہ اگر چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو ضم کرنے کی پہل کرتے ہیںتو وہ ان کی حمایت کریں گے۔ صدر تلنگانہ کانگریس اے ریونت ریڈی کی جانب سے اس کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر جگاریڈی نے اس کو اے ریونت ریڈی کی شخصی رائے قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے علیحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران متحدہ آندھرا کی تائید و حمایت کی تھی۔ تمام لوگوں نے انہیں تلنگانہ کا غدار قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود وہ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ جگاریڈی نے کہا کہ یہ ان کی شخصی رائے ہے۔ اس سے پارٹی کا تعلق نہیں ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا کے قائدین ایک بار پھر متحدہ آندھرا پردیش کے مسئلہ کو اٹھایا ہے جس پر وہ اپنی رائے پیش کررہے ہیں۔ اس معاملے میں میری اور صدر تلنگانہ کانگریس کی رائے علیحدہ ہے۔ وہ عوامی رائے کو اہمیت دیتے ہیں، میں کسی علاقے کے خلاف نہیں ہوں۔ علیحدہ ریاست تشکیل پانے پر بہتر زندگی کی امید کی گئی تھی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد پانی، فنڈز اور ملازمتیں حاصل ہونے کی توقع کرکے علیحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کی گئی تھی۔ مگر عوام کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ ماضی میں وہ جس طرح متحدہ آندھرا کی بات کررہے تھے اب آہستہ آہستہ سب متحدہ آندھرا پردیش کی تائید میں بات کررہے ہیں۔ متحدہ ریاست کی تقسیم کے باوجود آندھرا اور رائلسیما کے ایک کروڑ عوام تلنگانہ میں قیام پذیر ہیں۔ اس وقت میری مخالفت کرنے والے آج متحدہ آندھرا کی بات کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ انہیں آندھرا پردیش میں ٹی آر ایس قائم کرنے کی درخواستیں وصول ہورہی ہیں۔ آندھرا کے ایک وزیر نے کہا کہ پارٹی کیوں تشکیل دیتے ریاست کو متحدہ کردینے کا مشورہ دیا ہے۔ متحدہ آندھرا کے معاملہ میں وہ کسی کی رائے اور نظریات کی مخالفت نہیں کررہے ہیں کیونکہ ہر ایک کی اپنی رائے ہے۔ ن