چیف منسٹر محکمہ مال میں کرپشن میں اضافہ پر ناراض

,

   

نان ریوینو کیڈر عہدیداروں کو ایڈیشنل کلکٹر مقرر کرنے کی تجویز، دیگر محکموںکے حکام کی خدمات کا حصول
حیدرآباد۔ محکمہ مال میں کرپشن اور بدعنوانیوں میں دن بہ دن اضافہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ریوینو عہدیداروں کی کڑی نگرانی اور انہیں کرپشن سے روکنے کیلئے ایک منفرد فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایڈیشنل کلکٹرس ( مجالس مقامی ) کے عہدوں پر نان ریوینو عہدیداروں کے تقرر پر غور کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں سے اس سلسلہ میں رائے طلب کی ہے۔ ریوینو ڈپارٹمنٹ کی موجودہ صورتحال سے چیف منسٹر ناخوش ہیں اور انہوں نے نئے ریوینو قانون کے نفاذ کے علاوہ نان ریوینو عہدیداروں کو ذمہ داریاں دیتے ہوئے ریوینو عہدیداروں کے اختیارات میں کمی کی تیاری کرلی ہے۔ حکومت نے مجالس مقامی کی بہتر کارکردگی کیلئے ایڈیشنل کلکٹر کا عہدہ قائم کیا ہے۔ مجالس مقامی، گرام پنچایت اور میونسپلٹیز کی کارکردگی پر بہتر نگرانی کیلئے یہ عہدیدار معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایڈیشنل کلکٹرس نان ریوینو کیڈر کو سیول سپلائیز اور ریوینو سے متعلق تمام اُمور کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ حیدرآباد کو چھوڑ کر ریاست کے 32 اضلاع میں مجالس مقامی کیلئے ایڈیشنل کلکٹرس کا عہدہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے حالیہ عرصہ میں ریوینو ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ سطح پر کرپشن کے کئی واقعات منظر عام پر آنے کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ میونسپل اڈمنسٹریشن، پنچایت راج اور دیگر محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے نان ریوینو عہدیداروں کا تقرر کرتے ہوئے محکمہ کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

حال ہی میں بلدی نظم و نسق کے ایک سینئر عہدیدار جو ایڈیشنل ڈائرکٹر کیڈر کے تھے انہیں ایڈیشنل کلکٹر ملکاجگیری ضلع مقرر کیا گیا ہے۔ ریاست کے 35 کے منجملہ 25 ایڈیشنل کلکٹرس لوکل باڈیز کا تعلق ریوینو ڈپارٹمنٹ سے ہے جبکہ باقی عہدوں پر جونیر آئی اے ایس عہدیدار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مختلف محکمہ جات کے گزیٹیڈ آفیسرس اور گروپ I آفیسرس کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کیرالا، گجرات، اڑیسہ اور تاملناڈو کی طرز پر تلنگانہ اڈمنسٹریٹیو سرویس کے آغاز یا پھر انہیں ایڈیشنل کلکٹرس کے عہدہ پر فائز کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ نان گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلعی سطح کے عہدوں پر دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کی خدمات حاصل کی جائیں۔ حکومت نے حال ہی میں نیا ریوینو ایکٹ منظور کیا جس کے تحت رجسٹریشن اور دیگر اُمور کے سلسلہ میں ایم آر اوز کو زائد اختیارات دیئے گئے ہیں۔