چیف منسٹر نے اسمبلی میں پہلوان زبان استعمال کی : ہریش راؤ

   

چھ ضمانتوں کی تکمیل ، خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے معاوضہ اور ملازمتیں فراہم کرنے میں حکومت ناکام
حیدرآباد 31 مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر اسمبلی میں ’ پہلوان زبان ‘ استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سخت تنقید کی ۔ اسمبلی میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ریاست کے عوام کو چھ ضمانتوں کے نفاذ کے وعدے کے ذریعہ دھوکہ دیا ہے ۔ لیکن اب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بجٹ سیشن میں حکومت کی ناکامی ، وعدوں کی یاد دہانی اور عوامی مسائل پیش کرنے پر بی آر ایس ارکان کو معطل کردیا گیا ۔ چیف منسٹر کا طرز عمل ٹھیک نہیں تھا وہ ایوان میں دھمکی آمیز انداز میں پہلوان کی زبان استعمال کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل 100 دن میں چھ ضمانتوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر حکومت اس میں ناکام رہی کانگریس حکومت کی نصف میعاد مکمل ہوچکی ہے ۔ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے معاوضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اس کو بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت کے غلط فیصلوں اور بغیر حکمت عملی کے منصوبوں سے ریاست ترقی کی بجائے پسماندگی کی طرف گامزن ہے ۔ ریاست کو مقروض کردینے کے باوجود ترقی صفر ہے اور فلاح و بہبود کی اسکیمات دم توڑ رہی ہیں ۔ حکومت جھوٹے اعداد و شمار پیش کرکے عوام کو گمراہ کررہی ہے ۔ حکومت نے خود اسمبلی میں 16 ہزار ملازمتیں دینے کی بات کہی ہے ۔ لیکن چیف منسٹر 60 ہزار ملازمتیں فراہم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف علامتی احتجاج کے طور پر بی آر ایس اراکین نے کانوں میں پھول رکھ کر اپنا احتجاج درج کروایا ۔ لیکن آبپاشی بل پر بحث کے دوران بی آر ایس ارکان کو معطل کردیا گیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت عوامی مفادات کے خلاف کام کررہی ہے ۔ جبکہ بی آر ایس تلنگانہ کے عوام کی آواز کے طور پر جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتے رہے گی ۔۔ 2