بی آر ایس اور بی جے پی حکومت کو بدنام کرنے کیلئے گمراہ کن مہم میں مصروف۔ وزیر آئی ٹی و صنعت
حیدرآباد 6 مئی (سیاست نیوز) ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت ڈی سریدھر بابو نے کہاکہ چیف منسٹر ریاست کے مالیاتی موقف پر حقائق کو بیان کیا ہے، کوئی چیز چھپائی نہیں ہے۔ اِس کی ستائش کرنے کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جس طرح سے تنقیدیں کی جارہی ہیں وہ قابل اعتراض ہے۔ آج میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو نے سوال کیاکہ وزراء کے ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے پر اعتراض کیوں ہے؟ وزراء کے ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے سے ترقیاتی کاموں میں تیزی پیدا ہورہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہیلی کاپٹر کرایہ پر حاصل کرنے کے بعد اِس کو استعمال کریں یا نہ کریں کرایہ تو ادا کرنا پڑے گا۔ اگر وزراء ہیلی کاپٹر سے سفر کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں کا معائنہ کررہے ہیں تو اُس میں برائی کیا ہے۔ جہاں پر ایک کام ہونا چاہئے، ہیلی کاپٹر کا استعمال کرنے پر وہاں چار پانچ کام ہورہے ہیں۔ ڈی سریدھر بابو نے کہاکہ سابق بی آر ایس حکومت نے ہیلی کاپٹرس کا کرایہ ادا کیا مگر کبھی اُس کو استعمال نہیں کیا۔ کانگریس حکومت ہیلی کاپٹر استعمال بھی کررہی ہے اور کرایہ بھی ادا کررہی ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی ایک منظم سازش کے تحت ایک دوسرے سے خفیہ اتحاد کرتے ہوئے کانگریس حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی تھی لیکن تلنگانہ کے عوام نے بی آر ایس کو اقتدار سونپا۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے کے سی آر نے 10 برسوں کے دوران تلنگانہ کو تقریباً 8 لاکھ کروڑ روپئے کا مقروض کردیا جبکہ جس وقت علیحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل پائی تھی اُس وقت تلنگانہ پر صرف 65 ہزار کروڑ روپئے کا قرض تھا۔ اتنا بھاری قرض حاصل کرنے کے باوجود بی آر ایس حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور ریاست کی ترقی میں پوری طرح ناکام ہوگئی۔ مرکزی بی جے پی حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے دو مرکزی وزراء اور بی جے پی قائدین مرکزی حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے خلاف گمراہ کن مہم چلارہے ہیں۔ اُنھوں نے پہلگام دہشت گرد حملے کو مرکزی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ اِس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی جے پی کو فوری مرکزی حکومت سے دستبردار ہونے پر زور دیا۔ کانگریس پارٹی ملک کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرے گی۔ سریدھر بابو نے بی آر ایس اور بی جے پی کو اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرنے کا مشورہ دیا۔2