چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں ایف آئی آر پر بگھیل حکومت کی کارروائی
برہمنوں کو بیرون ملک سے آئے لوگ قرار دینانندکمار کو مہنگا پڑا، 15 روزہ عدالتی تحویل
نئی دہلی : چیف منسٹر چھتیس گڑھ بھوپیش بگھیل کے والد نندکمار بگھیل کو آج گرفتار کرکے 15 روزہ عدالتی تحویل میں دے دیا گیا کیوں کہ اُنھوں نے برہمنوں کے خلاف مبینہ طور پر اہانت آمیز تبصرے کئے ہیں۔ اُن کے وکیل نے کہاکہ اُنھوں نے ضمانت کی درخواست نہیں کی اور وہ 21 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں حاضر ہوں گے۔ چیف منسٹر نے اپنے والد کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کہا تھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ بھوپیش نے اتوار کو میڈیا کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ قانون کی گرفت سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا چاہے وہ چیف منسٹر کے 86 سالہ والد ہی کیوں نہ ہوں۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ مختلف برادریوں میں ہم آہنگی کو برقرار رکھوں۔ اگر اُنھوں نے (والد نندکمار) نے کسی کمیونٹی کے خلاف کوئی ریمارک کیا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ہر کوئی میرے والد کے ساتھ میرے نظریاتی اختلافات سے واقف ہے۔ ہمارے سیاسی افکار مختلف ہیں۔ میں بیٹے کی حیثیت سے اُن کا احترام کرتا ہوں لیکن چیف منسٹر کی حیثیت سے میں اُنھیں اِس طرح کی غلطی کرنے پر معاف نہیں کرسکتا جو امن عامہ کو متاثر کرے۔ چیف منسٹر نے یہ بھی واضح کیاکہ حکومت چھتیس گڑھ ہر مذہب، ذات اور برادری اور اُن کے احساسات کا احترام کرتی ہے اور سب کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔ چیف منسٹر کے والد نے اترپردیش کے حالیہ دورہ میں متنازعہ ریمارک کرتے ہوئے برہمنوں کا ’’بائیکاٹ‘‘ کرنے کی اپیل کی تھی اور اُنھوں نے برہمنوں کو بیرون ملک سے آئے لوگ قرار دیتے ہوئے عوام پر زور دیا تھا کہ اُنھیں اپنے دیہات میں داخل ہونے نہ دیں۔ اِس پر ہفتے کی شب 86 سالہ بگھیل کے خلاف سروو برہمن سماج کی شکایت پر چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں ایف آئی آر درج کیا گیا۔ شکایت میں عائد کردہ الزامات میں مختلف گروپوں کے درمیان عداوت پیدا کرنے کی کوشش کرنا شامل ہے۔