تھرواننتاپورم: کیرالا کے سونے کی اسمگلنگ کیس کی اہم ملزمہ سوپنا سریش نے بڑا انکشاف کیا ہے۔ سوپنا نے حکمراں سی پی آئی (ایم) پر الزام لگایا ہیکہ اس نے ایک ثالث کے ذریعے کیس کو حل کرنے کی پیشکش بھیجی تھی۔ اس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ وزیر اعلی پنارائی وجین کیخلاف ثبوت دیں جس کیلئے انہیں 30 کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔9 مارچ کو فیس بک پر اس ثالث کا نام سامنے آیا۔ سوپنا نے بتایا کہ اس کا نام وجے پلئی تھا جسے سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری ایم وی گووندن نے بھیجا تھا۔وجے نے سوپنا سے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ وجین اور ان کے خاندان کے خلاف تمام ثبوت ان کے حوالے کریں اور وزیر اعلیٰ کے بارے میں بات نہ کریں۔ سوپنا سریش نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں ہریانہ یا جے پور جاؤں۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی مدد کی جائیگی۔ فلیٹ بھی دیں گے۔ جعلی پاسپورٹ بنتے ہی ملک چھوڑنے کے انتظامات بھی کریں گے۔سوپنا نے دعویٰ کیا کہ وجے پلئی نامی شخص نے انٹرویو کے بہانے بنگلور کے ایک ہوٹل میں ان سے ملاقات کی تھی۔ بعد میں اس نے انکشاف کیا کہ وہ حتمی تصفیہ کی پیشکش لیکر آئے تھے۔ پلئی سوپنا سے کہتا ہے کہ اس کے پاس فیصلہ لینے کیلئے دو دن ہیں، جس کے بعد اس کی زندگی داؤ پر لگ جائے گی۔
واضح رہے بی جے پی نے وزیر اعلی وجین اور پارٹی کے ریاستی سیکریٹری ایم وی گووندن سے سوپنا کے بیان پر وضاحت طلب کی ہے۔فیس بک لائیو پر سوپنا نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ کو ان کے چہرے پر بتانا چاہتی ہوں کہ میں آخر تک لڑوں گی۔ میرے پاس ایسے لوگ ہیں جو مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر میں زندہ رہی تو میں آپ کی پوری کاروباری سلطنت کو ظاہر کر دوں گی۔ مجھے ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش بھی نہ کرنا، میں تمہارا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کروں گا۔