میدک میں جائزہ اجلاس کا انعقاد ۔ جنگی خطوط پر راحت کاری اقدامات کی ہدایت ۔متاثرہ علاقوں میں آج اور کل اسکولس بند ۔ مہلوکین کے ورثاء کیلئے ایکس گریشیا کا بھی فیصلہ
حیدرآباد 28 اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی نے آج بارش سے متاثرہ اضلاع پیداپلی، کاماریڈی اور میدک کا ہیلی کاپٹر کے ذریعہ فضائی سروے کرتے ہوئے میدک کے ایس پی آفس میں جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ دو افراد کے ہلاک ہوجانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کے ساتھ دیگر عہدیداروں کو راحت کاری کیلئے جنگی خطوط پر اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ بارش سے ہونے والی اموات پر ایکس گریشیا دینے کا اعلان کرتے ہوئے بارش سے متاثر ہونے والی فصلوں اور مکانات کو نقصانات کی رپورٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عہدیداروں کو 24 گھنٹے راحت کاری اقدامات میں مصروف رہنے کا حکم دیا۔ نشیبی علاقوں کے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتے ہوئے انہیں تمام بنیادی سہولت فراہم کرنے پر زور دیا۔ سرکاری انتظامیہ کی جانب سے بارش سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو جمعہ اور ہفتہ دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا۔ صبح سے اپنی قیام گاہ پر بارش کی صورتحال کا جائزہ لینے والے چیف منسٹر دوپہر میں بیگم پیٹ ایرپورٹ سے ایرئیل سروے کیلئے ہیلی کاپٹر میں روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ ریاستی وزراء اُتم کمار ریڈی، پی سرینواس ریڈی، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ، تلنگانہ کے چیف سیکریٹری، ڈی جی پی و دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر نے ایلم پلی پراجیکٹ کا معائنہ کیا اور اس پراجیکٹ کو دریائے گوداوری کا اہم پراجیکٹ قرار دیا۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ کے تعلق سے جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ پر اسمبلی میں مباحث کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کے سی آر اور ہریش راؤ کا نام لئے بغیر ماموں ۔ بھانجے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کتنی بھی سازشیں کرلیں، اُن کی غلطیاں معاف نہیں ہونگی۔ میڈی گڈہ ، انارم، سندیلا کو بھرنے پر کئی گاؤں بہہ جانے کا دعویٰ کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان تینوں بیاریجس میں نقائص موجود ہیں کالیشورم پراجیکٹ کی تعمیرات میں تکنیکی خرابیاں بھی ہیں۔ کالیشورم پراجیکٹ کے ڈیزائن، تعمیرات اور انتظامی اُمور میں کئی خامیاں ہیں۔ ریاست میں بھاری بارش کے باعث ہیلی کاپٹر سے فضائی سروے کرنے والے چیف منسٹر کاماریڈی کے بارش سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرنے والے تھے۔ موسم سازگار نہ ہونے کی وجہ سے چیف منسٹر کاہیلی کاپٹر کاماریڈی میں اُتر نہ سکا جس پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میدک پہنچ کر ضلع ایس پی آفس میں عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، مہیش کمار گوڑ کے علاوہ مقامی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رگھونندن راؤ اور مقامی رکن اسمبلی کے علاوہ دوسرے موجود تھے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو نقصانات پر مشتمل رپورٹ جنگی خطوط پر تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ مرکز کو روانہ کرتے ہوئے مالی امداد حاصل کی جاسکے۔ بارش رُکنے کے بعد فصلوں کے نقصانات کا فیلڈ سطح پر دورہ کرتے ہوئے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ۔ بارش سے خطرے کا شکار ہوجانے والے سرکاری اسکولوںکی عمارتوں کی نشاندہی کرنے اور ان میں زیرتعلیم طلبہ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ رامائم پیٹ ایس سی ویمنس ڈگری کالج کیلئے نئی عمارت کی تعمیر کیلئے تجاویز تیار کرنے کی عہدیداروں کو حکم دیا ۔ چیف منسٹر نے بارش سے نقصانات کا شکار ہونے والوں کی بھرپور مدد کرنے کا اعلان کیا۔ بارش سے متاثرہ اضلاع میں راحت کاری کیلئے کلکٹرس اور ایس پیز کے علاوہ دیگر عہدیداروں کی کارکردگی کی ستائش کی اور کوئی چھوٹا بھی مسئلہ پیش آئے، اس کو فوری حل کرنے کی ہدایت دی۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ ضلع میدک میں بارش سے 2 اموات ہوئی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 300 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ دو دن تک ہونے والی بارش سے کئی گاؤں پانی میں محصور ہوگئے ہیں۔ ضلع بھر میں پنچایت راج کی 45 سڑکیں ہیں۔ 65 مقامات پر سڑکوں کو نقصان پہونچا ہے۔ سڑکوں کی فوری مرمت کیلئے 3.99 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ 6341 ایکر اراضی پر محیط فصلوں کو نقصان پہنچا۔ 2632 تالاب لبریز ہوچکے ہیں جبکہ 40 تالابوں کو نقصان پہنچا ہے۔2