میڈیکل کالج کی منظوری اور دیگر تیقنات و اعلانات سے انحراف کیخلاف آواز اُٹھانے کا شاخسانہ
کاماریڈی : چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ کی کاماریڈی آمد کے موقع پر پولیس کی جانب سے کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم قائدین کو کل رات سے گرفتار کرتے ہوئے بانسواڑہ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے 2018 ء کے انتخابات کے موقع پر کاماریڈی میں میڈیکل کالج اور کاماریڈی کو ایجوکیشن ہب بنانے کے علاوہ کئی تیقنات دیئے تھے لیکن ان کے اعلانات سے انحراف پر اپوزیشن جماعتوں نے چیف منسٹر کے دورہ کے موقع پر احتجاج منظم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے تحریک شروع کی تھی۔ جس کے پیش نظر پولیس نے کل رات سے ہی اپوزیشن قائدین کو ان کے گھروں سے اٹھاتے ہوئے انھیں بانسواڑہ پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔ بی ڈی ایس ایف کے قائد آزاد کو رات دیر گئے پولیس نے ان کی قیامگاہ سے اُٹھالیا۔ آزاد گزشتہ چند دنوں سے میڈیکل کالج کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک شروع کی تھی جس کے پیش نظر پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا۔ بی جے وائی ایم کے قائدین بی بی پیٹ تالاب کی کشادگی اور میڈیکل کالج کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریک شروع کی تھی جس پر پولیس نے بی جے پی، اے بی وی پی، بی جے وائی ایم کے قائدین کو گرفتار کرلیا۔ کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائدین میڈیکل کالج اور بی بی پیٹ تالاب کی کشادگی کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ سے نمائندگی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس پر پولیس نے منڈل کانگریس کے صدر بھوما گوڑ، منڈل یوتھ کانگریس صدر رمیش، بی بی پیٹ تالاب کمیٹی کے صدر رام ریڈی کے علاوہ 40 تا 45 کسان قائدین کو گرفتار کرتے ہوئے بی بی پیٹ پولیس اسٹیشن کے علاوہ بانسواڑہ پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔ اپوزیشن جماعتیں اور کانگریس قائدین کی گرفتاری پر سینئر کانگریس قائد محمد علی شبیر نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ انتخابات میں چیف منسٹر نے واضح طور پر میڈیکل کالج کی منظوری اور بی بی پیٹ تالاب کی کشادگی کا اعلان کیا تھا اور انھوں نے اپنے وعدے سے انحراف کرلیا۔ چیف منسٹر کاماریڈی کا دورہ کررہے ہیں۔ دورے کے موقع پر کانگریس قائدین ان سے نمائندگی کرنا چاہتے تھے۔ میڈیکل کالج کی منظوری سے کاماریڈی اور اس کے اطراف و اکناف کے طلباء کو سہولت حاصل ہوگی۔ بی بی پیٹ کے تالاب کی کشادگی سے اس علاقہ کے تقریباً 4 ہزار ایکر اراضی سیراب ہوگی لیکن چیف منسٹر کسانوں اور طلباء کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے سابق میں کئے گئے اعلانات پر فوری عمل آوری کا مطالبہ بصورت دیگر کانگریس پارٹی اپنی تحریک کو جاری رکھے گی۔