چیف منسٹر کا دو دن کا وعدہ لیکن ایک ماہ مکمل

,

   

Ferty9 Clinic

سی اے اے اور این آر سی پر خاموشی، حلیف جماعت اور مذہبی قائدین سوال کرنے سے خوفزدہ

غضب کیا ‘ ترے وعدہ پہ اعتبار کیا

حیدرآباد۔24 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو سے مسلم مذہبی شخصیتوں کی ملاقات کو کل ہفتہ کو ایک ماہ مکمل ہوجائیگا لیکن شہریت قانون این آر سی اور این پی آر کے بارے میں دو دن کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کی قیادت میں مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے ذمہ داروں نے 25 ڈسمبر کو پرگتی بھون میں چیف منسٹر سے ملاقات کی تھی۔ ظہرانے کے بعد تقریباً 4 گھنٹوں تک چیف منسٹر نے مسلم وفد سے سیاسی صورتحال بالخصوص شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے بارے میں مسلمانوں میں پھیلی بے چینی پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد چیف منسٹر کے دفتر سے کوئی پریس نوٹ جاری نہیں کیا گیا جبکہ ایم پی حیدرآباد نے دعوی کیا کہ چیف منسٹر اندرون دو یوم شہریت قانون اور این آر سی پر اپنے موقف کا اعلان کریں گے۔ چیف منسٹر نے مسلم قائدین کو بھروسہ دلایا تھا کہ وہ این آر سی کے خلاف جدوجہد کو قومی سطح پر لیجانا چاہتے ہیں لہٰذا ہم خیال چیف منسٹرس سے ربط کرکے 30 ڈسمبر کو پریڈ گرائونڈ پر احتجاجی جلسہ منعقد کریں گے۔ وفد میں شریک تمام قائدین نے چیف منسٹر کے تیقن کا ذکر کیا اور مسلمانوں کو بھروسہ دلایا گیا کہ کے سی آر این آر سی کے خلاف موقف اختیار کریں گے۔ ملاقات کے دو دن بعد وزیر اکسائز سرینواس یادو نے 30 ڈسمبر کے جلسہ عام کی تردید کی اور کہا کہ کے سی آر نے ایسا کوئی تیقن نہیں دیا اور مسلم وفد کی جانب سے اگر یہ بات کہی جارہی ہے تو اس کیلئے چیف منسٹر ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس طرح چیف منسٹر کی جانب سے وزیر اکسائز نے جلسہ اور ہم خیال چیف منسٹروں سے بات چیت کے تیقن کی تردید کردی ۔ دو دن تو کجا ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن آج تک چیف منسٹر نے شہریت قانون اور این آر سی کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا برخلاف اسکے حکومت خفیہ طور پر این پی آر پر عمل کی تیاری کررہی ہے۔ عہدیداروں کو مردم شماری ٹریننگ کا آغاز ہونے والا ہے۔ بلدی انتخابات میں مسلم ووٹ حاصل کرنے وزیر داخلہ محمود علی سے بیان دلایا گیا کہ تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہیں ہوگا اور چیف منسٹر انتخابات کے بعد یہ اعلان کریں گے۔ مسئلہ صرف این آر سی کا نہیں بلکہ شہریت قانون اور این پی آر پر عمل کا بھی ہے۔ کئی ریاستوں نے شہریت قانون پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا اور پنجاب اور کیرالا اسمبلی میں قرارداد بھی منظور کی گئی۔ مغربی بنگال چیف منسٹر ممتا بنرجی نے بھی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کا اعلان کیا لیکن کے سی آر آج تک اسمبلی میں قرارداد کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ وزیر داخلہ کے بجائے چیف منسٹر یا پھر ان کے فرزند کے ٹی آر کو اس پر وضاحت کرنی چاہئے تھی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والے مذہبی قائدین خاموش ہیں۔ وہ کے سی آر سے انکے وعدے کے بارے میں سوال کرنے سے خائف دکھائی دے رہے ہیں۔ مختلف جماعتوں اور تنظیموں کے ذمہ داروں کو شائد مقامی سیاسی جماعت کے صدر کی اجازت کا انتظار ہے۔ نہ مقامی سیاسی جماعت کو جو کہ ٹی آر ایس کی حلیف ہے اسے کے سی آر سے سوال کی توفیق ہوئی نہ مسلم مذہبی شخصیتوں کو۔ ایسے میں تلنگانہ کے مسلمان قیادتوں سے مایوس ہوچکے ہیں اور وہ کسی قیادت کے بغیر ہی مرکز کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔