چیف منسٹر کا فیصلہ ظالمانہ اور غیر انسانی

,

   

طبی سہولیات ختم کرنے پر آر ٹی سی ملازمین یونین کے ذمہ داروں کی برہمی

حیدرآباد۔9اکٹوبر(سیاست نیوز)آر ٹی سی ہڑتالی ملازمین کو حکومت کی جانب سے حاصل طبی سہولیات کو ختم کرنے کے سلسلہ میں چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ہدایات جاری کردی ہیں اور کہا جارہاہے کہ حکومت کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ پر آر ٹی سی ملازمین میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے یہ واضح کیا جاتا رہا ہے کہ جو ملازمین حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی مہلت کے دوران خدمات سے رجوع نہیں ہوئے ہیں ان ملازمین کو برطرف تصور کیا جائے گا ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے سکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ہڑتالی ملازمین کو حاصل طبی سہولتوں کو فوری اثر کے ساتھ ختم کرنے کے احکامات جاری کردیں کیونکہ اب جو ملازم نہیں ہیں انہیں طبی سہولتوں کی فراہمی کا کوئی جواز نہیں ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کو آر ٹی سی یونینوں کی جانب سے مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ حکومت اب تک جن پردوں کے پیچھے چھپی ہوئی تھی وہ اپنے طور پربے پردہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ حکومت تلنگانہ خود کو فلاحی حکومت اور فلاحی اسکیمات شہریوں کیلئے طبی سہولیات کی بات کرتی آئی ہے اور اب خود اس بات کا انکشاف کررہی ہے کہ حکومت صرف ان لوگوں کو طبی خدمات فراہم کرے گی جو حکومت کی بات مانیں گے ۔چیف منسٹر کے فیصلہ کے سلسلہ میں عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین کے متعلق کیا گیا یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے اور اس فیصلہ کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے اقدامات شروع کئے جاچکے ہیں۔یونین کے ذمہ داروں نے چیف منسٹر کے اس فیصلہ کو غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کتنے ہی مظالم ڈھائے ملازمین خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔