برقی بلز کی مخالفت‘جی ایس ٹی بقایاجات کی اجرائی کیلئے دونوں ایوانوں میں احتجاج کا مشورہ
حیدرآباد۔چیف منسٹر و ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راوتلنگانہ بھون میں پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے عوامی مسائل اور ریاست کو وصول طلب بقایاجات کی فوری اجرائی کیلئے مرکزی حکومت پر دباوڈالنے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر نے دونوں ایوانوں میں مسائل کی یکسوئی کیلئے سخت موقف اختیار کرنے پر زور دیا ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے رکن راجیہ سبھا کے کیشو راو نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ریاستی حکومتوں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے 6سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن مرکز نے ریاست سے کئے گئے ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا ۔جی ایس ٹی کی عدم ادائیگی سے تلنگانہ کو 8ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔تلنگانہ کو طلب کے مطابق یوریا فراہم نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ برقی بل عوامی مفادات کے خلاف ہیں ۔انہوں نے استفسار کیا کہ زرعی موٹرس کو میٹر لگانے کی تجویز کو کیا مقامی قائدین قبول کریں گے ؟انہوں نے کہا کہ برقی بلز کے خلاف ٹی آر ایس ہم خیال جماعتوں کے ساتھ ملکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کرے گی ۔عوامی مسائل پر ٹی آر ایس کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔انہوں نے بتا یا کہ قومی شاہراہوں کے مسئلہ پر وزیر ٹرانسپورٹ کے تیقنات صرف وعدوں تک محدود رہ گئے ہیں ۔نوودیالیہ اسکولوں کیلئے گذشتہ 7سال سے مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن نتیجہ صفر ہے ۔جی ایس ٹی کے بقایاجات پر بھی تمام جماعتوں کے ساتھ احتجاج کیا جائے گا ۔انہوں نے بتا یا کہ میگا ٹکسٹائیل پارک کیلئے بھی مرکز نے کوئی تعاون نہیں کیا ۔ کیشو راو نے کہا کہ دیگر مسائل پر بھی مرکز کے خلاف جدوجہد کی جائے گی۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا /14 ستمبر سے آغاز ہورہا ہے جو یکم اکٹوبر تک جاری رہے گا ۔