پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کی مرکزی حکومت کو مدد، 3 ارکان غیر حاضر، ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ایم پی نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ کسانوں سے دھان کی خریدی میں ناکامی کیلئے چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفی دے دیں۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ نئی دہلی میں جنتر منتر پر مرن برت کا آغاز کرتے ہوئے کسانوں کے مسائل پر اپنی سنجیدگی کا ثبوت دیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ٹی آر ایس ارکان کے احتجاج کو محض دکھاوا قرار دیا اور کہا کہ ٹی آر ایس ارکان نے زرعی قوانین کی مباحث کے بغیر منظوری کیلئے مرکزی حکومت کی مدد کرنے کیلئے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس ارکان کی مدد سے مرکز نے اپوزیشن کو مباحث کی اجازت نہیں دی اور زرعی قوانین سے دستبرداری کا بل منظور کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کسانوں سے ہمدردی کا جھوٹا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے لڑائی کا اعلان کررہے ہیں۔ حیدرآباد میں بیٹھ کر مرکز سے لڑائی کیسے ممکن ہے۔ چیف منسٹر دھان کے مسئلہ پر کسانوں کی مدد میں سنجیدہ ہیں تو انہیں نئی دہلی کے جنتر منتر پر مرن برت کا آغاز کرنا چاہیئے جو دھان کی خریدی کے مرکز کے اعلان تک جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے ربیع سیزن میں دھان کی خریدی سے انکار کرتے ہوئے لاکھوں کسانوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ریاست میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ کسانوں کو متبادل فصل اور ایم ایس پی کے تیقن کے بغیر اس طرح کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت آبپاشی پراجکٹس کیلئے 3 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن کسانوں کی مدد کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کشن ریڈی نے مرکز کی جانب سے دھان کی خریدی کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کو مرکز سے بات چیت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر جان بوجھ کر مرکز کی شرائط سے لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس ارکان پارلیمنٹ ایوان میں کسانوں کے مسائل کو شدت سے پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں 9 ارکان پارلیمنٹ میں سے 3 ایوان سے غیر حاضر رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کسانوں کے مسائل پر سنجیدہ نہیں ہے۔ر