انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب الیکشن کمیشن سے وضاحت طلبی
حیدرآباد 24 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کل 25 مارچ کو دعوت افطار کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوچکی ہے کیوں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حیدرآباد مجالس مقامی کی ایم ایل سی نشست کے الیکشن شیڈول کا اعلان کردیا گیا۔ شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے اور ضابطہ اخلاق کے تحت سرکاری سطح پر کوئی پروگرام منعقد نہیں کئے جاسکتے۔ حیدرآباد مجالس مقامی کی ایم ایل سی نشست کے نوٹیفکیشن کی اجرائی کے ساتھ ہی چیف سکریٹری شانتی کماری نے الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دعوت افطار کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مجالس مقامی کی ایم ایل سی نشست کے الیکشن سے عوام کا کوئی راست تعلق نہیں ہے لہذا دعوت افطار کے اہتمام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ اعلامیہ کی اجرائی کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے ساتھ ہی سرکاری عہدیداروں اور سیاسی قائدین کے دورہ لال بہادر اسٹیڈیم کو منسوخ کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر دعوت افطار کا انحصار رہے گا۔ اگر الیکشن کمیشن سیاسی قائدین کی شرکت سے منع کرتا ہے تو صرف محکمہ جاتی عہدیداروں کی نگرانی میں دعوت افطار کا اہتمام کیا جائے گا۔ حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر دعوت افطار کو حکومت کے بجائے کانگریس پارٹی سے منسوب کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ سیاسی قائدین کی شرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔ الغرض دعوت افطار کا اہتمام الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر منحصر رہے گا۔1