حیدرآباد۔17۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلم رائے دہندوں کو راغب کرنے چیف منسٹر کی اردو تقاریر اور انہیں لبھانے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں اور مسلمانوں سے راست مخاطب کرنے چیف منسٹر اپنی تقاریر میں چند جملے اردو زبان میں کہتے ہوئے مسلمانوں کے کان خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ 9 برسوں میں 12ہزار کروڑ روپئے کے خرچ کے ذریعہ ریاست میں اقلیتوں کی ترقی کا دعویٰ کرنے والے چیف منسٹر اپنی تقریر کے دوران ’اردو‘ زبان کا استعمال کرکے اپنے سیکولر ہونے کا ثبوت دینے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ چیف منسٹر کی اردو دانی کے سلسلہ میں مذہبی و ملی تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ وہ تحریک تلنگانہ کے دوران اس طرح دل کو لبھانے والی اردو زبان کے استعمال کے ذریعہ مسلمانوں کا اعتماد حاصل کیا تھا لیکن اقتدار ملنے کے بعد سے وہ مسلسل مسلمانوں کو نظرانداز کر رہے ہیں ۔ انتخابی جلسوں کے دوران ’اردو‘ زبان میں چند جملے ادا کئے جانے پر کہا جا رہاہے کہ 9 سال میں اردو کی ترقی میں مکمل خاموشی کے بعد اب اچانک زبان کے استعمال سے اس کی شیرینی سے مسلمانوں کو متاثر کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی بلکہ یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت بالخصوص چیف منسٹر کی جانب سے اب صرف اردو زبان کا استعمال نہیں بلکہ مسلسل اردو میں بات کی جاتی ہے یا مسلمانوں سے کوئی وعدہ کیا جاتا ہے تو بھی ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ جو کہ 9 سال کے دوران مسلمانوں کے وفود سے ملاقات میں بے اعتنائی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں وہ اب مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں سے ملاقات کے متمنی ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ممکنہ حد تک مسلمانوں کے درمیان رسائی حاصل کرسکیں۔ ریاست کی سیاست میں مسلم ووٹرس کی اہمیت اور مقام کا اندازہ اب حکومت کو ہونے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی کانگریس کو ملنے والی تائید کے نتیجہ میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ملک میں اقتدار کی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے حکومت مسلمانوں کے ووٹوں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔