قرارداد کی منظوری غیر جمہوری اور قواعد کیخلاف، کانگریس قائد محمد علی شبیر کی چیف الیکشن کمیشن تلنگانہ سے شکایت
کاماریڈی ۔ یکم۔ ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بی آرایس پارٹی کی جانب سے امیدواروں کے ناموںکے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی ماحول سرگرم ہوگیا تھا کاماریڈی حلقہ کے چند گرام پنچایت کے سرپنچوں کی جانب سے متفقہ طور پر چیف منسٹر تائید میں قرار داد منظور کرنے کے خلاف آج کانگریس پارٹی کے سینئر قائد محمد علی شبیر ، سابق رکن پارلیمنٹ سریش شٹکر ، مقصود ایڈوکیٹ ، بال راج بانسواڑہ و دیگر نے چیف الیکشن کمیشن تلنگانہ وکاس راج سے شکایت کرتے ہوئے جن دیہاتوں کے گرام پنچایت چیف منسٹر کی تائید میں متفقہ طور پر گرام پنچایت کی جانب سے قرار داد منظور کرنے اور لیٹر پیاڈ کے استعمال اور اسٹامپ کا استعمال کرنے پر ان سرپنچوں کیخلاف کارروائی کرنے کا اور ضلع کلکٹر اخبارات میں سرپنچوں کے اعلان کے بعد کوئی کارروائی نہ کرنے سرپنچوں کے ساتھ ساتھ ایم پی ٹی سی ، ضلع پریشد کی جانب سے غیر مجاز طور پر قواعد کی خلاف ورزی کی تائید کرنے اسی طرح ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی رکن کے کویتا کیخلاف بھی کارروائی کرنے کا مسٹر شبیر علی نے الیکشن کمیشن سے پرُ زور مطالبہ کیا اور کاماریڈی میں آزادانہ منصفانہ طور پر انتخابات کے انعقاد کیلئے پرُ امن رائے دہی کیلئے سخت ترین اقدامات کرنے کی شبیر علی نے الیکشن کمیشن سے خواہش کی ۔ مسٹر شبیر علی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پارٹی کے امیدوار کی تائید میں رائے دہی کرنے کی رائے دہندوں سے زبردستی نہیں کی جاسکتی ۔ رائے دہی دستور کا بنیاد ی حق اور چیف منسٹر چندر شیکھر رائو کو کس طرح ووٹ ڈالنے کا اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ لہذا اس معاملہ میں فوری مداخلت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ مسٹر شبیر علی نے کہا کہ بی آرایس پارٹی کی تائید میں قرار داد منظور کرنا غیر جمہوری ہے اور یہ قواعد کے خلاف ہے ۔ تلنگانہ میں چیف منسٹر کسی بھی مقام سے مقابلہ کرسکتے ہیں لیکن اس طرح کے قرار داد منظور کرنا غیر قانونی ہے ۔ کاماریڈی حلقہ کے راز خان پیٹ ، ایلم پیٹ گرام پنچایت میں بی آرایس امیدوار چندر شیکھر رائو کی تائید میں قرار کرنے والے سرپنچ اور کلکٹر کی خاموشی کیخلاف فوری کارروائی کرنے کا اور اسی طرح کاماریڈی حلقہ کے اینکی ریڈی پلی تانڈہ مائسما چیرو تانڈہ ، وینکو کا تانڈہ ، نرمی تانڈہ منتھنی دیون پلی ، بوڑو گٹو تانڈہ ، آرے پلی سرپنچوں کی جانب سے گرام پنچایت لیٹر پیاڈ پر قرار داد منظور کیا تھا ۔شبیر علی نے کہا کہ کاماریڈی میں ناکامی کے خوف سے چیف منسٹر چندرشیکھر رائو گرام پنچایتوں کے سرپنچوں سے قرار داد منظور کرانا غیر مجاز ہے اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا بھی الزام عائد کیا ۔ مقامی گرام پنچایت مقامی ادارہ ہے اور ایک اہم ادارہ سے اس طرح کے قرار داد منظور کرانا سراسر غلط ہے اور جمہوریت کے خلاف ہے ۔ انتخابات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے اور الیکشن کمیشن تمام امیدواروں کو یکساں طور پر دیکھیں اور کاماریدی میں حلقہ میں کئے گئے پنچایتوں کے قرار داد ایک ہی طرح کے ہے لہذا اس پر کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ۔ شبیر علی نے کہا کہ 1951 ء ایکٹ کے تحت حق رائے دہی راست داری ہے اس کا افشاء کرنا الیکشن کے قواعد کے خلاف ہے ۔ لہذا اس معاملہ میں جنگی طور پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔