چیف منسٹر کی یوم آزادی تقریر سے سرکاری ملازمین میں مایوسی

   

Ferty9 Clinic

کوئی راحت فراہم نہ کئے جانے پر احتجاج کی حکمت عملی پر مختلف یونینوں کے غور کا امکان
حیدرآباد۔15اگسٹ(سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی یوم آزادی کے موقع پر تقریر سرکاری ملازمین کیلئے مایوس کن رہی اور ملازمین کی جانب سے آئندہ چند یوم میں اپنے مطالبات کے سلسلہ میں مختلف یونینوں کے ذمہ داروں کا اجلاس طلب کئے جانے کا امکان ہے۔ ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے گذشتہ ہفتہ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملازمین سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنایاجائے لیکن حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ ملازمین کو تو قع تھی چیف منسٹر یوم آزادی تقریر میں وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کے علاوہ پی آر سی اور عارضی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے کا اعلان کرینگے لیکن چیف منسٹر سے ان کا تذکرہ نہ کئے جانے پر ملازمین میں مایوسی پیدا ہوچکی ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ ملازمین آئندہ حکمت عملی کا جلد اعلان کرکے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرینگے۔ چیف منسٹر کی جانب سے ملازمین سے وعدوں کا تذکرہ نہ کئے جانے سے ملازمین کی بے چینی میں اضافہ ہوتاجارہا ہے کیونکہ ملازمین نے انتخابات سے وعدے پر یقین کرکے توقع کی تھی کہ وہ کامیابی کے بعد انہیں پورا کردیں گے لیکن انتخابات کے بعد عام انتخابات کے سبب حکومت کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا

اور ملازمین کو توقع تھی کہ ریاست کے یوم تاسیس 2جون کو تقاریب میں چندر شیکھر راؤ اس سلسلہ میں کوئی اعلان کرینگے لیکن 2جون کو بھی ملازمین کے مسئلہ کو چیف منسٹر نے نظر انداز کردیا جس پر ملازمین نے مایوسی اور ناراضگی کا اظہار کیا لیکن انہیں یہ کہا گیا کہ ان کے مسئلہ پر کاروائی کیلئے سب سے پہلے کابینہ کی منظوری درکار ہے اور کابینہ میں فیصلہ کو منظوری کے بعد ہی پیشرفت کی جائیگی جس پر تلنگانہ کی کابینہ کے اجلاس پر تمام ملازمین کی نگاہیں مرکوز تھیں اور توقع کی جا رہی تھی کہ کابینہ کی جانب سے فوری راحت کیلئے کم از کم پی آر سی کا اعلان کیا جائے گا لیکن کابینہ میں صرف نئے بلدی قوانین کو منظوری کے اقدامات نے ملازمین کو دوبارہ مایوس کردیا تھا اور ملازمین یونینوں نے ایک ہفتہ قبل اجلاس طلب کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ انتخابات میں کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے اقدامات کئے جائیں تاکہ یوم آزادی تقریر کے دوران چیف منسٹر ملازمین کی فلاح و بہبود کے اعلان کریں لیکن اس تقریر میں بھی چندر شیکھر راؤ نے ملازمین کے مطالبات کو نظر انداز کردیا جس سے ملازمین کی مایوسی اور ناراضگی برہمی میں تبدیل ہونے کا امکان ہے ۔ ملازمین کی جانب سے ہڑتال یا احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرنے سے اجتناب کیا جا رہا تھا لیکن اب ان کے مطالبات کو مسلسل نظر انداز کئے جانے پر وہ بہت جلد اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرسکتے ہیں۔