حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے سیاسی تماشہ بازی
حیدرآباد : /23 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ سابق ریاستی وزیر کے ٹی آر نے فون ٹیاپنگ کیس میں ایس آئی ٹی کی پوچھ تاچھ کے بعد کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر سابق ریاستی وزیر ہریش راؤ کے علاوہ پارٹی کے دوسرے قائدین موجود تھے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کے برادر نسبتی سنگارینی بے قاعدگیوں کے بادشاہ ہے تمام ثبوت موجود ہونے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے ۔ حکومت سے استفسار کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت کی دو سالہ کارکردگی مایوس کن ہے ۔ عوام سے کئے گئے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ حکومت کی ناکامیوں اور بدعنوانیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے بی آر ایس قائدین کو نوٹسیں جاری کئے جارہے ہیں ۔ پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا جارہا ہے ۔ تفریحی کہانیاں اور فرضی ڈرامہ چلائے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی ٹنڈرس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے ثبوت دیئے گئے ۔ حتی کہ وزیر کے فرزند پر عنڈہ گردی کے الزامات ہیں ۔ اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ فون ٹیاپنگ کے معاملے میں انہوں نے ایس آئی ٹی سے مکمل تعاون کیا ہے ۔ مگر افسوس کے تحقیقات کے بجائے لیکس کا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ یہ ’’ لیکس ہیروز‘‘ کی حکومت ہے جو صرف لیکس کے سہارے چل رہی ہے ۔ ہمارے ساتھ جو پوچھ تاچھ کی جارہی ہے اس کی میڈیا کو تفصیلات لیک کی جارہی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ایس آئی ٹی کے عہدیدار ان کے سوالات کے جوابات دینے کے بجائے ٹال مٹول کرتے رہے ۔ میں نے پوچھا لیکس کون کررہا ہے ؟ کیا ہمارے فون ٹیاپ ہورہے ہیں ؟ کن اداکاروں نے شکایت کی ؟ مگر عہدیداروں نے میرے سوالات پر واضح جواب نہیں دیا ۔ بلکہ بار بار نام لے کر سوالات کرتے رہے ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ لیکس پر تعین نہ کریں اور جھوٹی خبریں شائع نہ کریں ۔ ہمارے بھی خاندان ہیں ۔ کسی کی ساکھ سے کھیلنا درست نہیں ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ آج ان کی پوچھ تاچھ میں ان کے سوا کوئی دوسرا راو نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف ۔ اخلاقیات اور قانون سب کیلئے یکساں ہونی چاہئیے ۔ اگر مجھے دوبارہ پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا جاتا ہے تو وہ ضرور تعاون کریں گے ۔ 2