تین سال سے عدم ادائیگی ۔ عوام پر دباو ڈال کر ٹیکس وصول کرنے والا جی ایچ ایم سی کا عملہ خاموش
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کی سرکاری قیامگاہ پرگتی بھون کا 17 لاکھ روپئے کا پراپرٹی ٹیکس واجب الادا ہے ۔ رپورٹس میں یہ بات بتائی گئی ۔ حالانکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ( جی ایچ ایم سی ) نے سال 2018-19 میں پرگتی بھون کے پرپرٹی ٹیکس کا اسسمنٹ کیا تھا تاہم اس بنگلہ کیلئے ابھی تک ایک پیسہ بھی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ۔ اس بنگلے کو ’ چیف منسٹر کا کیمپس ‘ قرار دیا جاتا ہے جس کا پتہ 6 – 3 – 870/A گرین لینڈز بیگم پیٹ خیریت آباد بلدیہ کے ریکارڈز میں درج ہے ۔ چیف منسٹر کے دفتر کو ہر چھ ماہ میں جملہ 1,91,794 روپئے ادا کرنے ہوتے ہیں جو سالانہ 3,83,588 روپئے ہوتے ہیں۔ ریکارڈز کے اعتبار سے گذشتہ تین سال سے پرگتی بھون کے پراپرٹی ٹیکس کے طور پر جملہ 11.50 لاکھ روپئے کا بقایہ ہے ۔ تین سال تک ٹیکس ادا نہ کرنے پر 1.68 لاکھ روپئے کے سود کے ساتھ چیف منسٹر کے بنگلہ کا بقایہ 13.19 لاکھ روپئے ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ جاریہ سال 2021-22 کیلئے چیف منسٹر کے دفتر کو 30 جون تک مزید 1.91 لاکھ روپئے ادا کرنے تھے ۔ چونکہ یہ رقم بھی مقررہ تاریخ تک ادا نہیں کی گئی ہے اس لئے جملہ بقایہ جات پر اضافی سود بھی عائد ہوتا ہے ۔ اس طرح چار سال کیلئے جی ایچ ایم سی کے اسسٹمنٹ کے مطابق پرگتی بھون کے پراپرٹی ٹیکس کے طور پر جملہ 17.06 لاکھ روپئے کا بقایہ ہے ۔ چونکہ یہ سرکاری بنگلہ ہے اس لئے یہ رقم دفتر چیف منسٹر کو سرکاری خزانہ سے ادا کرنی ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود بھی پرگتی بھون کا جائیداد ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہریوں کو ہر سال پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کیلئے دباو ڈالا جاتا ہے ۔ تاہم ریاست کے چیف منسٹر سے ہی پراپرٹی ٹیکس وصول کرنے میں جی ایچ ایم سی حکام مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔