چیف منسٹر کے حلقہ انتخاب گجویل میں کسان کی خودکشی

   

Ferty9 Clinic

سدی پیٹ پہنچنے پر کانگریس قائدین گرفتار، اتم کمار ریڈی نے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے سی آر کے اسمبلی حلقہ گجویل میں ایک کسان کی خودکشی نے حکومت اور ٹی آر ایس کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ ورگل منڈل کے ویلور گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایس سی طبقہ کے کسان بی نرسمہلو نے اس کی 13 گنٹے اراضی حکومت کی جانب سے حاصل کرلینے کے خلاف بطور احتجاج کیڑے مار دوا پی کر خودکشی کرلی۔ خود کشی سے قبل اس نے آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ کیا جس میں حکومت پر اراضی حاصل کرلینے کا الزام عائد کیا۔ زہریلی دوا کے استعمال کے بعد اسے گجویل کے سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا گیا اور ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے سدی پیٹ ہاسپٹل لیجایا گیا جہاں علاج کے دوران وہ جانبر نہ ہوسکا۔ ضلع کے کانگریس قائدین نے کسان کی خودکشی کیلئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خاطیوں کے خلاف ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی۔ اسی دوران اے آئی سی سی سکریٹری سمپت کمار اور ضلع کانگریس صدر نرسا ریڈی کسان کے لواحقین سے ملاقات کیلئے سدی پیٹ پہنچے لیکن پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ دونوں قائدین جب سدی پیٹ کے راستہ میں تھے تو پولیس نے ان کی کار کو آگے بڑھنے سے روک دیا جس کے بعد وہ بائیک پر سوار ہوکر کسی طرح گورنمنٹ ہاسپٹل سدی پیٹ پہنچ گئے ۔ انہوں نے مہلوک کسان کے افراد خاندان سے ملاقات کی اور کانگریس کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ پولیس نے ہاسپٹل کے قریب سے کانگریس قائدین کو گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ اسی دوران صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے کسان کی خودکشی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مہلوک کے پسماندگان کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے 3 ایکر اراضی الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ریاست میں دلتوں پر مظالم میں اضافہ ہوچکا ہے اور چیف منسٹر کے حلقہ میں اس طرح کا واقعہ افسوسناک ہے۔