چیف منسٹر کے دورہ کے بعد سرکاری دواخانوں کی قسمت جاگ اُٹھی

   

وزراء ‘ عوامی نمائندے بھی معائنہ پر ،مریضوں کو راحت، ڈاکٹرس میں جوابدہی کا احساس
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے دو سرکاری دواخانوں کے معائنہ کے بعد ریاست بھر میں سرکاری دواخانوں کی قسمت جاگ چکی ہے۔ وزراء، عوامی نمائندے اور ٹی آر ایس قائدین سرکاری دواخانوں کے معائنہ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کورونا وباء کے پہلے مرحلہ میں عوامی نمائندے دواخانوں کا رُخ کرنے سے گھبرارہے تھے کہ کہیں وہ کورونا کا شکار نہ ہوجائیں۔ دوسری لہر میں یہ خطرہ اور بھی بڑھ گیا تھا کیونکہ ریاست میں کیسس کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا اور حکومت کو لاک ڈاؤن کے نفاذ پر مجبور ہونا پڑا ۔ سرکاری دواخانوں کی زبوں حالی اور علاج کی سہولتوں سے محرومی پر کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ ایٹالہ راجندر کی وزارت صحت سے برطرفی کے بعد سرکاری دواخانوں کے ڈاکٹرس اور نیم طبی عملے نے راحت کی سانس لی کیونکہ وہ کسی کو جوابدہ نہیں رہے۔ ایسی صورتحال میں چیف منسٹر نے اچانک گاندھی ہاسپٹل کا دورہ کیا اور وہ بھی صرف ماسک لگاکر حالانکہ ڈاکٹرس نے پی پی کٹ پہننے کا مشورہ دیا تھا۔ گاندھی ہاسپٹل کے دورہ کے ساتھ ہی سرکاری دواخانوں میں کسی قدر ہلچل پیدا ہوگئی اور دو دن بعد چیف منسٹر نے ورنگل کے ایم جی ایم ہاسپٹل کا معائنہ کیا۔ عوام کی جانب سے چیف منسٹر کے اس فیصلہ کی ستائش کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کے دورہ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کئی ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور کونسل سرکاری دواخانوں کے دورہ پر نکل پڑے جس کے نتیجہ میں کسی نہ کسی طرح علاج کی سہولتوں میں اضافہ ہوا اور ڈاکٹرس میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوا ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بھی سرکاری دواخانوں پر توجہ مرکوز کردی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں مزید دواخانوں کا معائنہ کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریاستی وزراء کو دواخانوں کے دورہ کی ہدایت دی ہے۔