وزیر اعظم سے ملاقات میں ریاست کے مسائل سے زیادہ سیاسی مسائل زیر بحث
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے تین روزہ نئی دہلی دورہ کے بعد آج صبح حیدرآباد واپس ہوئے۔ وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ خصوصی طیارہ کے ذریعہ چیف منسٹر کی واپسی ہوئی۔ نئی دہلی میں قیام کے دوران چیف منسٹر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بعض مرکزی وزراء سے ریاست کو درپیش مسائل پر نمائندگی کی۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران راست کو مرکز کی جانب سے فنڈز کی اجرائی، سیلاب کے متاثرین کی امداد کیلئے 1350 کروڑکی اجرائی، جی ایس ٹی کے بقایا جات جاری کرنے، آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل میں تعاون اور نیتی آیوگ کی سفارش کی کے مطابق 24000 کروڑ جاری کرنے جیسے اُمور پر نمائندگی کی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے جب وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران کے سی آر نے کوئی تحریری نمائندگی حوالے نہیں کی۔ جب کبھی کے سی آر نے وزیر اعظم سے ملاقات کی ان کی جانب سے دیئے گئے مکتوب میڈیا کیلئے جاری کئے جاتے تھے لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملاقات ریاست کے مسائل سے زیادہ سیاسی مسائل پر محیط رہی جس کے نتیجہ میں چیف منسٹر کے دفتر سے کوئی پریس نوٹ جاری نہیں کیا گیا۔ گریٹر بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ٹکراؤ اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی سے ماحول گرم ہوچکا تھا۔ بلدیہ میں بی جے پی نے 48 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور موجودہ پس منظر میں نریندر مودی اور امیت شاہ سے کے سی آر کی ملاقات کو سیاسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ کے سی آر نے وزیر شہری ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقات کرتے ہوئے سدی پیٹ اور دیگر 6 مقامات پر ایرپورٹس کی تعمیر کی منظوری کی نمائندگی کی۔ انہوں نے مرکزی وزیر جل شکتی گجیندر سنگھ شیخاوت سے ریاست کے آبپاشی پراجکٹس کے مسئلہ پر نمائندگی کی۔
