200 یونٹ مفت برقی ، 500 روپئے میں گیس ، خواتین کو بسوں میں مفت سفر کی سہولت
تلنگانہ میں کانگریس بھاری اکثریت سے حکومت تشکیل دیگی : ڈی کے شیوکمار
حیدرآباد 28 اکٹوبر ( سیاست نیوز) کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت تشکیل دے گی ۔ 9 دسمبر کو صبح 10 بجے لال بہادر اسٹیڈیم میں حلف برداری ہوگی جس میں ریونت ریڈی بحیثیت چیف منسٹر حلف لیں گے اور شام میں کابینہ کے پہلے اجلاس میں سونیا گاندھی نے جن 6 گیارنٹی کا اعلان کیا ہے ان کو منظوری دی جائے گی ۔ شیوکمار نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اور ان کے فرزند کے ٹی آر کو کرناٹک پہونچکر کانگریس کے وعدوں پر عمل ہورہا ہے یا نہیں دیکھنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ وہ کے سی آر کی ٹیم کو دورہ کرنے بس کا انتظام کریں گے ۔ کانگریس بس یاترا کے دوسرے مرحلے کا تانڈور سے آغاز ہوا جس سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی ، اے آئی سی سی تلنگانہ انچارج سکریٹری منصور علی خاں حلقہ تانڈور کے کانگریس امیدوار منوہر ریڈی و دیگر موجود تھے ۔ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کیا ۔ سیاسی نقصان کی پرواہ کئے بغیر 9 دسمبر کو علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے کا وعدہ کیا اور اس پر عمل کیا اس مرتبہ کانگریس نے تلنگانہ کے عوام کو 6 گیارنٹی کا اعلان کیا اور اقتدار حاصل ہوتے ہی اس پر عمل آوری کا آغاز کردیا جائے گا ۔ کانگریس وعدوں پر عمل کرنے والی جماعت ہے ۔ کرناٹک اس کی زندہ مثال ہے ۔ 10 سال پہلے چیف منسٹر کے سی آر نے جو وعدے کئے آج تک ان پر عمل نہیں کیا ۔ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت قائم ہوتے ہی پہلے ماہ سے 200 یونٹ مفت برقی سربراہ کی جائیگی ۔ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے مالی معاوضہ دیا جائیگا ۔ خواتین کو بسوں میں سفر کرنے کی مفت سہولت فراہم کی جائیگی ۔ 500 روپئے میں گیس سلنڈر سربراہ کیا جائیگا ۔ رعیتو بھروسہ کے نام پر کسانوں کو 15 ہزار روپئے مالی امداد دی جائے گی ۔ زرعی مزدوروں کو 12 ہزار روپئے دیا جائیگا ۔ اندرا اماں ہاوزنگ اسکیم کا احیاء کیا جائے گا ۔ اراضی رکھنے والے غریب عوام کو مکانات کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت ہے ۔ طلبہ کو 5 لاکھ روپئے کا ڈیبٹ کارڈ دیا جائے گا ۔ والدین کو اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کو اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اقلیتوں کی ترقی و بہبود صرف کانگریس سے ہی ممکن ہے ۔ ماضی میں ہم مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا لیکن آج تک اس وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنایا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سماج کے تمام طبقات کو دھوکہ دیا ہے ۔ اب انہیں سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے ۔۔ ن