سیاسی مبصرین سے مشاورت، پارٹی میں وسیع تر تبدیلیوں کے اشارے، غیر کارکرد قائدین پر ناراضگی
حیدرآباد۔/2نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ حضورآباد ضمنی چناؤ کے نتائج سے حیرت میں پڑ گئے کیونکہ انہیں پارٹی کی شکست کا یقین نہیں تھا۔ چیف منسٹر جو فارم ہاوز میں قیام پذیر ہیں صبح سے نتائج پر نظر بنائے ہوئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے انتخابی مہم میں شریک رہے وزراء اور سینئر قائدین سے ربط کرکے ہر منڈل میں ووٹنگ رجحان پر معلومات لیں۔ انہوں نے ابتدا سے بی جے پی کی سبقت پر حیرت کا اظہار کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ٹی آر ایس کے مضبوط علاقوں میں بی جے پی کو اکثریت ناقابل فہم ہے۔ چیف منسٹر کا احساس ہے کہ انتخابی مہم میں یا تو قائدین ووٹر کی نبض جاننے میں ناکام رہے یا لمحہ آخر میں بی جے پی اور کانگریس نے باہمی مفاہمت سے ٹی آر ایس کو شکست دینے کی منصوبہ بندی کی۔ چیف منسٹر نے بتایا جاتا ہے کہ رائے شماری کے دوران ہی کئی سیاسی مبصرین سے بھی ربط قائم کیا اور وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کی۔ چیف منسٹر کو مختلف سروے رپورٹس کے ذریعہ یقین دلایا گیا تھا کہ پارٹی کو کامیابی ملیگی ۔ چیف منسٹر حضورآباد کے نتیجہ سے خوش نہیں ہیں اور وہ پارٹی میں بڑی تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر ایسے قائدین کو اہم ذمہ داریوں سے محروم کرسکتے ہیں جو حیدرآباد یا ضلع میں بیٹھ کر کامیابی اور ناکامی کے اندیشے قائم کئے ہیں۔ عوام کے درمیان رسما آنے والے کئی قائدین نے چیف منسٹر کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ پارٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے انتخابی مہم میں وزراء ، عوامی نمائندوں اور قائدین کی حصہ داری پر الیکشن انچارج ہریش راؤ سے تفصیلی رپورٹ طلبی کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نتیجہ نے پارٹی اور حکومت کی سطح پر بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار کردی ہے۔ چیف منسٹر ریاست میں بی جے پی اور کانگریس کی پیش قدمی کو روکنے اہم فیصلے کرسکتے ہیں۔ 29 نومبر کو ورنگل میں پارٹی کے وجئے گرجنا میں چیف منسٹر کا خطاب اہمیت کا حامل رہے گا۔ر