چیف منسٹر کے سی آر نے آر ٹی سی کے نقصانات پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا

   

قرضہ جات ، آمدنی کا جائزہ لیتے ہوئے اراضیات کی فروخت سے ہونے والی آمدنی پر رپورٹ طلبی
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر نے آر ٹی سی کے نقصانات کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے جائزہ لیا ۔ آر ٹی سی کی جانب سے ابھی تک حاصل کئے گئے قرضہ جات ، ادارہ کی غیر مستعملہ جائیدادیں ، خالی اراضیات کتنے ہیں انہیں فروخت کرنے پر کتنی آمدنی حاصل ہوگی ۔ اس پر غور و خوص کیا گیا ۔ اس اجلاس میں ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار ، آر ٹی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر سنیل شرما کے علاوہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ ریاست میں کورونا بحران ، لاک ڈاؤن اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے آر ٹی سی کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ صرف چار ماہ میں تلنگانہ آر ٹی سی کو 900 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے بھی روزانہ 2 کروڑ روپئے کا کارپوریشن پر زائد مالی بوجھ عائد ہونے کی تفصیلات پیش کی۔ اس اجلاس میں آر ٹی سی کو خسارے سے باہر نکالنے کے مسئلہ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ کارگو سرویس سے ہونے والی آمدنی کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آر ٹی سی کی آمدنی اور اخراجات پر بھی عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر نے کارپوریشن کے کنٹرول میں موجود جائیدادوں کے بارے میں بھی تفصیلات حاصل کی ۔ غیر استعمال شدہ بس اسٹانڈس اور خالی اراضیات کی تفصیلات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی ۔ اگر انہیں فروخت کردیا جائے تو اس سے کتنی آمدنی حاصل ہوگی اس بارے میں بھی عہدیداروں کی رائے حاصل کی ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے عہدیداروں کو اس معاملے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ دور دراز علاقوں کے لیے چلائی جانے والی بسوں سے آر ٹی سی کو زیادہ فائدہ ہورہا ہے ۔ کے سی آر نے ایسے مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان روٹس پر زیادہ بسیں چلانے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔۔N