رنگارنگ تقریب، شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں کو سنمان، یوم تاسیس تقاریب کا اختتام
حیدرآباد۔/22 جون، ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شہیدان تلنگانہ کی یادگار امر جیوتی کی آج شام نقاب کشائی انجام دیتے ہوئے علحدہ تلنگانہ جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو خراج پیش کیا۔ یوم تاسیس تلنگانہ کی 21 روزہ تقاریب کے اختتام کے موقع پر آج یوم شہیدان تلنگانہ منایا گیا جس کے تحت سکریٹریٹ کے قریب تعمیر کردہ یادگار کی نقاب کشائی انجام دی گئی۔ چیف منسٹر نے ریاستی وزراء کے ہمراہ اس موقع پر تلنگانہ جدوجہد کی تاریخ پر مشتمل نمائش کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کو کچلنے کیلئے کئی سازشیں اور منصوبے تیار کئے گئے لیکن جہد مسلسل کے ذریعہ علحدہ ریاست کے حصول میں کامیابی ملی ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ تحریک کی طویل تاریخ کو دہراتے ہوئے کہا کہ تحریک کی کامیابی میں طلباء و نوجوانوں کا اہم رول ہے اور ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں علحدہ ریاست حاصل ہوئی ہے۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے شہیدان تلنگانہ سریکانت چاری، وینوگوپال ریڈی، پی کشٹیا اور سی یادیا کے افراد خاندان کا سنمان کرتے ہوئے ان کے فرزندان کی قربانیوں کو خراج پیش کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد کی تاریخ ایک عظیم اور طویل ہے اور آنے والی نسلوں تک تاریخ پہنچانے اور قربانیوں کی یاد تازہ رکھنے کیلئے ہمیشہ امر جیوتی جلتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے دوران ایک دن اگر خوشی کا ہوتا تو دو دن پریشانی اور تشویش سے گذرتے۔ انہوں نے پروفیسر جئے شنکر کی خدمات کو یاد کیا اور کہا کہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تلنگانہ تحریک چلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ استعفوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تحریک کو مستحکم کیا گیا۔ کے سی آر نے کہا کہ مجھ پر تلنگانہ تحریک کے دوران جس قدر حملے کئے گئے دنیا میں کسی بھی لیڈر کے خلاف اس قدر حملے نہیں ہوئے۔ میں نے تلنگانہ کیلئے اپنی جان کو داؤ پر لگاتے ہوئے نعرہ دیا تھا کہ تلنگانہ آئے یا کے سی آر کی جان جائے، اس نعرہ کے تحت بھوک ہڑتال شروع کی گئی اس کے بعد بھی کئی سازشیں کی گئیں۔ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری روکنے کیلئے پیپر اسپرے کا استعمال کیا گیا۔ چیف منسٹر نے سرکاری ملازمین، طلبہ اور سماج کے تمام طبقات کے جدوجہد میں حصہ لینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والا تلنگانہ آج ترقی اور فلاح و بہبود کے معاملے میں ملک کیلئے مثال بن چکا ہے۔ انہوں نے 1965، 1966 سے 1967 تک یونیورسٹیز میں علحدہ تلنگانہ کی تحریک کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے مخالفین نے ہمیشہ سازشیں کرتے ہوئے تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ شہیدان تلنگانہ کی یادگار کی نقاب کشائی تقریب کے بعد ریاست میں یوم تاسیس کی سرکاری تقاریب کا اختتام عمل میں آیا۔ 21 روزہ تقاریب کے دوران روزانہ ایک شعبہ کی ترقی کے بارے میں عوام کو واقف کرانے کیلئے مختلف پروگرام منعقد کئے گئے۔ یادگار شہیدان تلنگانہ کی تعمیر پر 178 کروڑ کے اخراجات آئے ہیں اور 6 منزلہ اس یادگار میں مختلف سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ر