چیف منسٹر کے سی آر کا دورہ حضور آباد ، دلت بندھو اسکیم کا آغاز

   

Ferty9 Clinic

20 ہزار خاندانوں کو 10 لاکھ کی امداد،مزید دو ہزار کروڑ روپئے جاری کرنے کا وعدہ، جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد۔16 ۔اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج حضور آباد میں دلت بندھو اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے ریاست بھر میں اسکیم پر عمل آوری کا اعلان کیا۔ حضور آباد ضمنی چناؤ کے پس منظر میں دلت بندھو اسکیم کا بڑے پیمانہ پر آغاز کیا گیا اور شالا پلی موضع میں دلتوں کا ایک بڑا جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں چیف منسٹر کے علاوہ ریاستی کابینہ کے تمام ارکان اور عوامی نمائندوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اسکیم کے تحت حضور آباد میں 21 ہزار مستحق خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بینک اکاؤنٹ میں فی کس 10 لاکھ روپئے جمع کئے جائیں گے ۔ حضور آباد کیلئے 500 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 15 دن بعد مزید 2000 کروڑ روپئے حضور آباد کیلئے جاری کئے جائیں گے تاکہ باقی استفادہ کنندگان میں رقم جاری کی جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بینکنگ قواعد کے مطابق کسی اکاؤنٹ میں ایک لاکھ روپئے سے زائد رقم جمع ہونے پر اکاؤنٹ ہولڈر کو تفصیلات پیش کرنی ہوتی ہے اور اگر اکاؤنٹ ہولڈر بینک یا کسی سرکاری ادارہ کا قرض باقی ہے تو رقم منہا کرلی جاتی ہے۔ دلت بندھو اسکیم کی رقم کو حکومت نے نئے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاست بھر میں دلت بندھو اکاؤنٹس کے نام سے بینکوں میں دلت خاندانوں کے اکاؤنٹس کھولے جائیں گے۔ کے سی آر نے کہا کہ حضور آباد کے دلتوں نے جو کامیابی حاصل کی ، وہ مستقبل میں ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرلے گی ۔ قومی دلت تحریک کیلئے حضور آباد بنیادی مرکز ثابت ہوگا۔ چیف منسٹر نے استفادہ کنندگان کو مشورہ دیا کہ ہر کوئی ٹریکٹر خریدی سے گریز کرے۔ ہر شخص اگر ٹریکٹر خرید لے گا تو پھر اس رقم کا بہتر استعمال نہیں ہوپائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو علحدہ شعبہ میں اس رقم کا استعمال کرنا چاہئے ۔ حکومت کی جانب سے دلت خاندانوں کو اس معاملہ میں رہنمائی کی جائے گی ۔ استفادہ کنندگان کو جو کارڈ جاری کیا جائے گا ، اس کے ذریعہ ضلع کلکٹر بینک اکاؤنٹ سے حاصل کی جانے والی رقم اور اس کے استعمال کے بارے میں جان سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکٹر یا پھر کوئی چھوٹی دکان کے بجائے رائیس مل جیسے بڑے ادارے قائم کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر دلت بندھو اسکیم شروع کی جارہی ہے اور اسکیم کا مقصد سیاسی مقصد براری نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کی کامیابی کا انحصار دلتوں پر ہے۔ دلت خاندانوں کو اسکیم کا تحفظ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے 75 برسوں میں آج کسی بھی حکومت نے دلت خاندانوں کو دس لاکھ روپئے کی امداد کے بارے میں نہیں سوچا۔ کے سی آر نے کہا کہ میں نے کافی غور و فکر کے بعد دلتوں کی حالات سدھارنے کیلئے یہ اسکیم شروع کی ہے اور اسکیم کیلئے بجٹ کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جلسہ عام میں موجود دلتوں کا دل جیتنے کیلئے چیف منسٹر نے اپنی تقریر کا آغاز ’جئے بھیم‘ کے نعرے کے ساتھ کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں دلتوں کی آبادی تقریباً 17 لاکھ ہے اور ان میں سے اکثریت تعلیم اور معاشی طور پر پسماندہ ہے۔ چیف منسٹر ہیلی کاپٹر کے ذریعہ شالاپلی گاؤں پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ریاستی وزیر فینانس ہریش راؤ نے انتظامات کی نگرانی کی۔ اسکیم کے آغاز کے سلسلہ میں تمام ریاستی وزراء کو حضور آباد طلب کیا گیا ۔