چیف منسٹر کے سی آر کی بدعنوانیوں کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

   

پارلیمنٹ اجلاس کی حکمت عملی کا جائزہ ، مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیوں نہیں ، اُتم کمار ریڈی کا استفسار

حیدرآباد : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سشن میں چیف منسٹر کے سی آر اور تلنگانہ حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ 12فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کرنے کا دباؤ ڈالا جائے گا ۔ آج شام گاندھی بھون میں کانگریس کے تینوں ارکان پارلیمنٹ اُتم کمار ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، ریاونت ریڈی کے علاوہ پارٹی کے دوسرے سینئر قائدین کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں تلنگانہ کے مسائل اٹھانے کی حکمت عملی تیار کی گئی ۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ پراجکٹس کی تعمیرات کے نام پر بڑے پیمانے کی بدعنوانیاں کی گئی ہیں ۔ ہندوستان کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اسکام ہے ۔ اس کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک دوسرے سے خفیہ ساز باز کرتے ہوئے سیاسی ڈرامہ بازی کررہی ہیں ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے تلنگانہ میں بدعنوانیوں ہونے کا الزام عائد کررہے ہیں مگر اس کی تحقیقات کیلئے مرکز کو مکتوب نہیں لکھا ہے ۔ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں وضاحت طلب کی جائے گی ۔ حیدرآباد تا وجئے واڑہ بلٹ ٹرین چلانے کا مطالبہ کیا جائے گا ، تقسیم ریاست بل میں کئے گئے وعدے کے مطابق قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری ، قبائلی یونیورسٹی بیارم میں اسٹیل فیکٹری کے قیام سے متلق زیرالتواء مسائل کو اٹھایا جائے گا ۔ معاشی طور پر کمزور طبقات کو 10فیصد تحفظات فراہم کیا جارہا ہے مگر مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ اس مسئلہ کو بھی پارلیمنٹ کے اجلاس میں اٹھایا جائے گا ۔ اس کے علاوہ ہلدی بورڈ ، او بی سی کمیلیر ، انفلو یونیورسٹی کی بے قاعدگیاں پر آواز اٹھائی جائے گی ۔ میٹرو ریل کو سنگاریڈی تک توسیع دینے بھونگیر کے ہاسپٹل کو ایمس کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔
سنگارینی کی بدعنوانیاں کے علاوہ دوسرے مسائل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سی آر کی بدعنوانیوں کو ثبوت کے ساتھ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بشمول سی بی آئی کو ثبوت پیش کیا جائے گا ۔ کے سی آر کے 2014 میں اثاثہ جات کیا تھے ، اب کیا ہیں ، تمام اعداد و شمار کو منظر عام پر لایا جائے گا ۔