سیکریٹریٹ کی منتقلی پر تاخیر میںچیف منسٹر کی برہمی اصل وجہ ۔ سیکریٹریٹ میں دوبارہ قدم نہ رکھنے چیف سکریٹری کا ارادہ
حیدرآباد 13 اگسٹ (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے رویہ نے چیف سیکریٹری ایس کے جوشی کو نالاں کردیا ہے اور دونوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے ۔ چیف منسٹر کے طلب کردہ جائزہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے سیکریٹریٹ کی منتقلی میں تاخیر پر چیف سیکریٹری پر برہمی کا اظہار کیا جس پر چیف سیکریٹری نے اپنے قریبی رفقا سے بات چیت کے دوران کہا کہ چیف منسٹر کے رویہ نے انہیں مایوس کردیا ہے اور وہ اب سیکریٹریٹ میں قدم نہیں رکھیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ناشائستہ رویہ اختیار کیا اور اس وقت دیگر عہدیدار بھی موجود تھے جس سے ڈاکٹر جوشی دلبرداشتہ ہوگئے ۔ چیف منسٹر نے موجودہ سیکریٹریٹ کی منتقلی میں تاخیر پر چیف سیکریٹری پر برہمی ظاہر کرکے سخت الفاظ کہے جس پر وہ چیف منسٹر کے رویہ سے ناراض ہوچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف سکریٹری نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ نئے سیکریٹریٹ میں اب قدم نہیں رکھیں گے اور نہ ہی دفتر آنے کا ان کا کوئی ارادہ ہے بلکہ اب وہ بی آر کے بھون یا گھر سے دفتری امور انجام دیں گے ۔
سیکریٹریٹ کی عمارتوں کو منہدم کرکے اس کی جگہ نئی عمارتوں کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کے فیصلہ کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر تنظیموں نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے حکومت کو سیکریٹریٹ کی قدیم عمارتوں کو منہدم کرنے سے باز رکھنے کی ہدایات جاری کرنے کی درخواستیں داخل کی ہوئی ہیں اور اس سلسلہ میں عدالت میں سماعت زیر دوراں ہے ۔ حکومت کی جانب سے عدالت میں سماعت کے زیر دوراں ہونے کے باوجود بھی سیکریٹریٹ میں موجود دفاتر کی فوری منتقلی پر زور دیا جا رہاہے او رکہا جا رہا ہے کہ حکومت کو نئے سیکریٹریٹ کی تعمیر کی اجازت حاصل ہوجائے گی ۔ سیکریٹریٹ میں موجود دفاتر کی منتقلی کے سلسلہ میں پرگتی بھون میں منعقدہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے ڈاکٹر جوشی پر برہمی کا اظہار کیا اور ان کے خلاف جو ریمارک کئے اس پر چیف سیکریٹری ناراض ہوچکے ہیں ۔ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے ان کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کیا اور اس پر دیگر آئی اے ایس عہدیداروں میں بھی ناراضگی ہے کیونکہ عہدیداروں سے چیف منسٹر کا رویہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہاہے اورکہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے چند ایک پسندیدہ عہدیداروں کے علاوہ مابقی عہدیداروں کے ساتھ اختیار کردہ رویہ پر آئی اے ایس اور آئی پی ایس حلقوں میں بھی شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
