محمد علی شبیر کا احتجاج، کے سی آر کو محل سے باہر آنے کا مشورہ
حیدرآباد۔14 ۔ اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق فلور لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے آبائی ضلع میں لڑکیوں کے قبائلی اقامتی اسکول میں پیش آئے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو کم از کم اپنے محل سے اب باہر نکلنا ہوگا۔ چیف منسٹر کے ضلع میں اس طرح کا واقعہ افسوسناک اور باعث حیرت ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کے دیگر اقامتی اسکولوں میں ابتر صورتحال ہے۔ اقامتی اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ٹوئیٹر پر محمد علی شبیر نے لکھا کہ کے سی آر نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا جو اعلان کیا تھا ، یہ اس کی تازہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقامتی اسکولوں کے قیام کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے لیکن اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ میدک میں واقع قبائلی لڑکیوں کے اقامتی اسکول میں 150 طالبات کی کٹنگ محض اس لئے کرادی گئی کیونکہ پانی کی قلت ہے اور پرنسپل نے پانی کے کم استعمال کو یقینی بنانے کیلئے یہ اقدام کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ پرنسپل کے ارونا نے دو حجاموں کو طلب کرتے ہوئے لڑکیوں کی کٹنگ کردی۔ اطلاع ملنے پر برہم والدین اور سرپرستوں نے ہاسٹل پہنچ اسکول اسٹاف پر حملہ کردیا۔
