چیف منسٹر کے پالتو کتے کی موت پر پولیس میں مقدمہ درج

   

Ferty9 Clinic

ڈینگو سے 6 بچوں کی اموت ،حکومت کی ’مجرمانہ غفلت‘: اپوزیشن
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر (پی ٹی آئی) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے ایک پالتو کتے کی موت پر حیوانات کے ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے بعد اپوزیشن نے اس واقعہ کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت ایک طرف تیزی پھیلنے والے ڈینگو بخار پر ’غیر کارکرد‘ ہے لیکن چیف منسٹر کے معاملہ میں سرگرمی دکھائی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون میں ایک پالتو کتے کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کی طرف سے کی گئی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ہندوستانی تعزیری ضابطہ کی مختلف دفعات کے تحت حیوانات کے دواخانہ سے وابستہ دو افراد کے خلاف 12 ستمبر کو ایک مقدمہ درج کرلیا۔ شکایت گزار نے حیوانات کے علاج کے ماہرین پر غفلت و لاپرواہی کا الزام عائد کیا ۔ ان میں حیوانات کے علاج کی ایک کلینک کے ایڈمنسٹریٹر بھی شامل ہیں۔ اس کلینک میں 11 ماہ کے کتے کا علاج کیا جارہا تھا جو 11 ستمبر کو فوت ہوگیا۔ پولیس نے شکایت درج کروائے جانے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان داسوجو سراون نے کہا کہ ایک دواخانہ میں یوم واحد میں ڈینگو بخار کے سبب 6 بچوں کی موت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے یہ دریافت کرنا چاہا کہ غفلت و لاپرواہی پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزیر صحت ایٹالہ راجندر کے خلاف کیوں نہ ایک مقدمہ درج کیا جائے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان کے کرشنا ساگر راؤ نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ چیف منسٹر اور وزیر صحت کی ’مجرمانہ غفلت‘ کے سبب ڈینگو بخار سے کئی اموات ہوئی ہیں، انہیں جو ’ایک ظالمانہ و بے رحمانہ لطیفہ‘ سے کم نہیں ہے۔انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اس قسم کی ’اچھوت حکمرانی ‘آخر کتنے مقدمے درج کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بی جے پی ترجمان نے ماہرین حیوانات کے خلاف مقدمات کو مضحکہل خیز قرار دیا۔