مفت علاج کا اعلان نہیں کیا گیا، ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے مختلف وعدے
حیدرآباد: سابق وزیر اور کانگریس کے قائد محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو گاندھی ہاسپٹل کے دورہ کے موقع پر کورونا علاج کو آروگیہ شری کے تحت شامل کرنے کا اعلان کرنا چاہئے تھا ۔ چیف منسٹر کے دورہ سے عوام کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ کورونا کے علاج کے لئے عوام لاکھوں روپئے کا انتظام کرنے سے قاصر ہیں۔ سرکاری دواخانوں میں بیڈس اور سہولتوں کی کمی کے باعث عوام کارپوریٹ ہاسپٹل سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو چاہئے تھا کہ وہ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ نمس ، ٹمس ، عثمانیہ اور کنگ کوٹھی ہاسپٹل کا بھی دورہ کرتے تاکہ مریضوںکی زبوں حالی کا پتہ چلتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے مختلف اعلانات کر رہی ہے تاکہ ہائی کورٹ کو مطمئن کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی ہائی کورٹ میں کورونا کی صورتحال سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت کی سرزنش کی تو چیف منسٹر نے فوری جائزہ اجلاس طلب کرتے ہوئے عوام سے کئی جھوٹے وعدے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور عہدیداروں کے دعوؤں اور زمینی حقیقت میں کافی فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو محض اعلانات کے بجائے جنریشن پلانٹ کیلئے درکار بجٹ فوری جاری کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سنگا ریڈی ، جگتیال ، کتہ گوڑم ، ونپرتی ، منچریال اور محبوب آباد میں میڈیکل کالجس کے قیام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ چیف منسٹر نے ہائی کورٹ کی توجہ کورونا کی صورتحال سے ہٹانے کے لئے یہ اعلانات کئے ۔ حکومت نے 50,000 ڈاکٹرس کے تقررات کا اعلان کیا لیکن کوئی بھی ڈاکٹر سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو محض اعلانات کے بجائے کورونا سے نمٹنے کیلئے ٹھوس قدم اٹھانے چاہئے ۔