چین، یورپی یونین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا

   

بیجنگ : کورونا وبا کی وجہ سے یورپ کے اہم شراکت دار ممالک کے درمیان تجارت میں کمی واقع ہوئی لیکن چین ان منفی اثرات سے بچنے میں کامیاب رہا۔گذشتہ سال چین اور یورپی یونین کے درمیان 709 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی تھی جبکہ 2020 میں امریکی تجارت 671 ارب ڈالر رہی۔اگرچہ کورونا وبا کی وجہ سے پہلی سہ ماہی میں چین کی معیشت خراب ہوئی لیکن اقتصادی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد سال کے آخر میں یورپی یونین کی جانب سے سامان کی مانگ میں اضافہ ہوا۔سال 2020 میں بڑی عالمی معیشتوں میں چین واحد ملک تھا جہاں معاشی نمو دیکھی گئی۔ اسی وجہ سے یہاں یورپی کاروں اور لگژری سازو سامان کی طلب میں اضافہ ہوا۔دریں اثناء طبی اور الیکٹرانک آلات کی زبردست مانگ کی وجہ سے چین کی یورپ میں برآمدات کو بھی فائدہ ہوا۔یورپی یونین کے اعداد و شمار کے دفتر یوروسٹیٹ کے مطابق 2020 میں چین یورپی یونین کا ایک اہم شراکت دار تھا۔ یہ درآمدات میں اضافی پانچ اعشاریہ چھ فیصد اور برآمدات میں دو اعشاریہ دو فیصد مزید اضافے کا نتیجہ تھا۔یورپی یونین کے اعداد و شمار جنوری میں چین کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار سے ملتے جلتے ہیں۔ چین کے مطابق سال 2020 میں یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں 5.3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ بڑھ کر 696 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔