چینائی اور راجستھان میں اسپن پچ پرآج دلچسپ ٹکراؤ متوقع

   

چینائی۔ راجستھان رائلز کی جوس بٹلر اور یشسوی جیسوال کی ان فارم اوپننگ جوڑی کو ایک مشکل چیپاک پچ پر معیاری اسپن امتحان کا سامنا کرنا پڑے گا جب وہ کچھ عالمی معیارکے کھلاڑیوں کا یہاں اس میدان پر سامنا کریں گے ۔ چہارشنبہ کو یہاں آئی پی ایل میچ میں چینائی سوپرکنگز لائن اپ میں بٹلر کا مظاہرہ توجہ کا مرکز ہوگا ۔انگلینڈ کے سفید گیندکے کپتان اور ان کے نوجوان ہندوستانی ساتھی دونوں نے دو دو نصف سنچریاں بنائی ہیں اور وہ بھی صحت مند اسٹرائیک ریٹ پر اننگز کھیلی ہیں ۔ بٹلر کے لیے 180.95 اور جیسوال کے لیے 164.47کا اسٹرائیک ریٹ درج ہے لیکن رائلز نے اب تک جو تین مقابلے کھیلے ہیں، ان میں سے دوگوہاٹی میں تھے، جو تمام مقامات کے درمیان سب سے بہترین بیٹنگ پچ ہے۔ حیدرآباد کا ٹریک بھی بیٹرس کے حق میں بہت زیادہ بہتر ثابتہوا تھا۔ اب وہ اچانک چینائی آئے ہیں جہاں گیند گرفت میں آ سکتی ہے اور میچ کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ آہستہ بھی ہو سکتی ہے۔ چینائی میں ٹاس ہمیشہ ایک اہم عنصر ہوتا ہے کیونکہ 170 سے 175 کے اوپر کسی بھی اسکورکا پیچھا کرنا ایک خطرناک فیصلہ ہوسکتا ہے۔خاص طور پر جب معین علی، رویندرا جڈیجہ اور مچل سینٹنر چیپاک میں کام کر رہے ہیں اور ان کے درمیان 10 یا 12 اوورز کر سکتے ہیں۔ وہاں میچ جیتے اور ہارنے کا فیصلہ ان اوورس میں ہوسکتا ہے۔ سی ایس کے کے تین تجربہ کار مہم جوؤں نے تین مقابلوں میں ان کے درمیان 11 وکٹیں حاصل کی ہیں لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان کی اکانومک کی شرح بہت متاثر کن رہی ہے۔ معین نے دو میچوں میں 6.50 کے اکانومی ریٹ سے گیند کی ہے جبکہ جڈیجہ (6.88) اور سینٹنر (6.75) نے بھی سات رنز فی اوور سے کم کے لیے بولنگکی ہے۔ معین فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے آخری میچ نہیں کھیل سکے تھے اور توقع ہے کہ وہ سسندا مگالا کی جگہ کھیلیں گے، جب کہ بین اسٹوکس کے فٹ نہ ہونے کی صورت میں ڈیوائن پریٹوریئس آل راؤنڈر کے طور پر میدان میں اتریں گے لیکن کسی بھی طرح سے رائلزکے اسپنرزکو آسان تصور نہیں جا سکتا ہے کیونکہ ہوشیار کرکٹ سائنسدان روی چندرن اشون نے اپنی تمام کرکٹ اسی گراؤنڈ پر کھیلی ہے اور ذہین یوزویندر چہل کسی بھی بیٹرکو اپنے دن پر آؤٹ کرسکتے ہیں۔ دوسرے تامل ناڈو کے اسپنر مروگن اشون کو شامل کریں اورچینائی کے پاس بھی اپنے چیلنجز ہوں گے۔تاہم چینائی دیپک چاہر کی کمی محسوس کرے گا، جن کے بائیں ہیمسٹرنگ کی چوٹ کے دوبارہ ہونے کی وجہ سے ٹورنمنٹ سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔چاہے دھونی بے ترتیب لیکن تیز رفتار راجوردھن ہنگرگیکر کو ترجیح دیتے ہیں یا انوکھا سمرجیت سنگھ کو موقع ملتا ہے یہ ایک بڑا سوال ہوگا۔ بیٹنگکے محاذ پر بڑے تجربہ کار اجنکیا رہانے نے دکھایا کہ وہ بھی اپنے چینائی ڈیبیو پر تیزی سے اسکور کر سکتے ہیں ۔آرڈر کے اوپری حصے میں رتوراج گائیکواڈ کی اچھی فام شامل کریں تو چینائی سوپر کنگس کے پاس ایک زبردست بیٹنگ لائن اپ ہے لیکن ان کا مقابلہ رائلزکی اتنی ہی اچھی ٹیم کے خلاف ہوگا۔ یہ کل یہاں ایک دلچسپ ٹکراؤ کو یقینی بناتاہے جس میں دونوں فریق ایک مضبوط بیٹنگ یونٹ پر فخر کرتے ہیں، اور اس لمحے سے فائدہ اٹھانے کی ذمہ داری بولروں پر ہوگی۔کپتان سنجو سیمسن اور شمرون ہیٹمائر کی شکل میں رائلز کے پاس ایسے بیٹرس ہیں جو بڑے شاٹس کھیل سکتے ہیں اور اسکورکو تیزی سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ٹرینٹ بولٹ اور جیسن ہولڈر پر مشتمل پیس یونٹ کاغذ پر چینائی سوپر کنگس کے مقابلے بہتر نظر آتا ہے لیکن اپنے دن یہ دونوںکس طرح کھیل کے نتائج کا تعین کر سکتے ہیں اس کا اندازہ ٹورنمنٹ کے ابتدائی مقابلوں میں ہوچکا ہے ۔ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم کی وکٹ نے لکھنؤ سوپر جائنٹس کے خلاف کھیل میں باؤنس کی پیشکش کی اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اسی طرح کے حالات اس مقابلے میں ہوں گے۔ ان تمام پہلووں کے باوجود کل ایک ایک دلچسپ ٹکراؤہونے کے پورے امکانات ہیں۔